اتوار, اکتوبر ۲۵, ۲۰۲۶ – ۴:۰۳ شام
 

کراچی میں 13 سالہ بچی خطرناک آن لائن گروپ سے بازیاب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

کراچی میں قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے 13 سالہ بچی کو مبینہ طور پر ایک خطرناک آن لائن گروپ کے چنگل سے بچا لیا۔ اطلاعات کے مطابق گروپ کی جانب سے بچی کو پہلے ایک بلی کو زہر دینے اور بعدازاں خود کو شدید نقصان پہنچانے کی ہدایات دی گئی تھیں۔

حکام کے مطابق ایک بین الاقوامی ادارے نے مشکوک آن لائن سرگرمیوں کے بارے میں اطلاع دی تھی، جس کے ساتھ انٹرنیٹ پروٹوکول (آئی پی) ایڈریسز کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی تھیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی گئیں۔ پاکستانی آئی پی ایڈریس کا سراغ لگانے کے بعد تفتیش کاروں کو معلوم ہوا کہ اس سے منسلک بچی خود کسی جرم میں ملوث ہونے کے بجائے مبینہ طور پر اس آن لائن گروپ کے نشانے پر تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بچی کو ابتدا میں ایک بلی کو زہر دینے کا ٹاسک دیا گیا، جس کے نتیجے میں بلی ہلاک ہوگئی۔ اس کے بعد اسے خود کو شدید نقصان پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم، سائبر کرائم ایجنسی نے بروقت کارروائی کرکے بچی کا پتا لگا لیا اور اسے مزید خطرناک ہدایات پر عمل کرنے سے پہلے محفوظ مقام پر پہنچا دیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بچی کے والدین اس کی انٹرنیٹ سرگرمیوں سے لاعلم تھے۔ والدین کے مطابق، گزشتہ چھ ماہ کے دوران بیٹی کے رویے میں تبدیلیاں محسوس ہوئی تھیں، لیکن وہ ان کا تعلق آن لائن سرگرمیوں سے نہیں جوڑ سکے۔ ایجنسی نے والدین کو صورت حال سے آگاہ کرنے کے ساتھ ممکنہ خطرات کے بارے میں بھی بتایا ہے۔

دوسری جانب، مشتبہ آن لائن گروپ چلانے والے افراد اور بچی سے رابطے کے لیے استعمال ہونے والے اکاؤنٹس کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ تفتیش کار یہ بھی معلوم کر رہے ہیں کہ آیا پاکستان میں مزید بچے بھی اسی نوعیت کی آن لائن سرگرمیوں کا نشانہ بنے ہیں۔

تاحال اس معاملے میں کسی گرفتاری کا اعلان نہیں کیا گیا۔ واقعے نے بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں پر توجہ دینے اور ان کے رویے میں غیر معمولی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت کو نمایاں کیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں