ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۹:۱۹ شام
 

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی ضروری ہے، وزیراعظم

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے پاکستان کے سرکاری دورے کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں عالمی امن و سلامتی، علاقائی صورتحال اور کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے، تاہم افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر پاکستان کو شدید تشویش ہے۔ انہوں نے ان گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اقوام متحدہ میں اصلاحات اور پاکستان کا مؤقف

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے چارٹر، کثیرالجہتی نظام، عالمی قانون، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے انتونیو گوتریس کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں کثیرالجہتی نظام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے پاکستان ایک مؤثر، جامع اور نمائندہ اقوام متحدہ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی ’UN80 Initiative‘ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات ترقی پذیر ممالک کی ترجیحات کے مطابق ہونی چاہئیں۔ انہوں نے تنازعات کی روک تھام، تنازعات کے پرامن حل، امن قائم رکھنے اور امن سازی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔

وزیراعظم نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں پاکستان کے دیرینہ کردار اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی عالمی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی طویل عرصے سے جاری خدمات، خصوصاً اقوام متحدہ کے امن مشنز میں اہم کردار اور سلامتی کونسل میں تعمیری تعاون کو سراہا۔

مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششیں

وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی، جن میں امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعات کے حل اور کشیدگی کو روکنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی قابلِ عمل راستہ ہیں۔

انتونیو گوتریس نے بھی مذاکرات، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور اقوام متحدہ کے اصولوں اور کثیرالجہتی نظام کے لیے پاکستان کے عزم کا خیرمقدم کیا۔

مسئلہ کشمیر کے پرامن حل پر زور

وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے تنازع کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔

وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کو ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے اسے یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔

فلسطینی عوام کے حق کی حمایت کا اعادہ

وزیراعظم شہباز شریف نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔

انہوں نے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 پر عمل درآمد کی حمایت بھی دہرائی۔

وزیراعظم نے ترقی پذیر ممالک کے لیے سستے اور رعایتی مالی وسائل تک زیادہ رسائی کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ وہ ترقی اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرسکیں۔

بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں