ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۵:۳۶ شام
 

اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع، ڈسچارج کی درخواست مسترد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے ریاست مخالف مواد کی برآمدگی سے متعلق مقدمے میں گرفتار اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 2 روز کی توسیع کردی، جبکہ عدالت نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

ہفتے کو سماعت کے دوران اقرار الحسن کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے اپنی ویڈیو میں ایسی کوئی بات نہیں کی جس پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے قوانین کا اطلاق ہوتا ہو۔

وکیل صفائی کے مطابق اقرار الحسن نے صرف ایمرجنسی اور گورنر راج کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے علاج سے متعلق بات کی، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پہلے ہی حکم دے چکی ہے۔

میاں علی اشفاق نے کہا کہ اقرار الحسن ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں اور انہوں نے کوئی خود ساختہ بات نہیں کی۔

وکیل صفائی کے مطابق ملزم کی گرفتاری کو 6 روز گزر چکے ہیں، تاہم ایف آئی آر میں گرفتاری کا وقت تک درج نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کے گواہ این سی سی آئی اے کے 3 اہلکار ہیں اور کوئی آزاد گواہ موجود نہیں تھا، جبکہ تفتیشی افسر بھی گرفتاری کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے۔

میاں علی اشفاق نے عدالت کو بتایا کہ اقرار الحسن کا موبائل فون، آئی پیڈ اور دیگر اشیا پہلے ہی این سی سی آئی اے کی تحویل میں ہیں اور تفتیش کے لیے درکار سوالات بھی کیے جا چکے ہیں۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں کوئی متاثرہ شخص یا مدعی موجود نہیں۔ ان کے مطابق اقرار الحسن نے اپنے مواد کی اشاعت سے انکار نہیں کیا بلکہ تسلیم کیا ہے کہ مواد ان کا اپنا ہے اور انہوں نے ہی اسے شائع کیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل پر ریمارکس دیے کہ ایک طرف ملزم کو مقدمے سے بری یا ڈسچارج کرنے کی استدعا کی جا رہی ہے اور دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ شواہد ٹرائل کے دوران سامنے لائے جائیں گے۔

دوسری جانب تفتیشی افسر نے اقرار الحسن کے مزید جسمانی ریمانڈ کی درخواست کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کا موبائل فون فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مقدمے میں مزید 5 افراد کو گرفتار کرنا ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق سائبر سیکیورٹی سے متعلق شکایت پر کارروائی کی گئی۔

این سی سی آئی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایجنسی اپنے طور پر بھی کارروائی کرسکتی ہے۔ سماعت کے دوران گرفتاری کے وقت کے حوالے سے بھی مختلف مؤقف سامنے آئے۔ وکیل صفائی نے گرفتاری کے وقت اور طریقۂ کار پر اعتراضات اٹھائے، جبکہ ایجنسی کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اقرار الحسن کو ساڑھے 12 بجے گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ بعد ازاں فیصلہ سناتے ہوئے اقرار الحسن کے جسمانی ریمانڈ میں 2 روز کی توسیع کردی اور انہیں مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی درخواست مسترد کردی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں