جمعہ, اکتوبر ۲۳, ۲۰۲۶ – ۵:۴۲ صبح
 

چائے پینے کے شوقین خبردار! دل کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے؟ نئی تحقیق میں اہم انکشاف

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

چائے کا کپ اور ساتھ دوستوں یا گھر والوں کی محفل، بہت سے لوگوں کے لیے دن کا خوشگوار حصہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چائے محض ایک مشروب نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ بہت سے افراد صبح کا آغاز چائے سے کرتے ہیں، جبکہ دن بھر کی تھکن کے بعد بھی اسی سے سکون محسوس کرتے ہیں۔ تاہم نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ چائے پینے کی عادت اور دل کی صحت کے درمیان تعلق ہوسکتا ہے، جبکہ چائے کا درجۂ حرارت بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

جرنل آف انٹرنل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 30 سے 79 سال کی عمر کے 4 لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا نے چائے پینے کی اپنی عادات کے بارے میں معلومات فراہم کیں، جن میں روزانہ پینے والے کپوں کی تعداد، چائے کی قسم اور اسے پینے کا درجۂ حرارت شامل تھا۔

محققین نے تقریباً 9 سال تک ان افراد کی صحت کا جائزہ لیا۔ اس عرصے میں ہارٹ اٹیک، فالج اور دل کی شریانوں سے متعلق بیماریوں کے 14 ہزار 800 سے زائد کیسز سامنے آئے۔ نتائج کے مطابق ہفتے میں کم از کم 3 دن چائے پینے والے افراد میں امراضِ قلب، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ 11 فیصد تک کم دیکھا گیا۔

تحقیق میں عمر، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی، وزن اور دیگر طبی مسائل جیسے عوامل کو بھی مدنظر رکھا گیا۔ ان عوامل کو شامل کرنے کے بعد بھی چائے پینے اور دل کی بیماریوں کے نسبتاً کم خطرے کے درمیان تعلق برقرار رہا۔ تاہم تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد میں یہ تعلق زیادہ نمایاں ہوسکتا ہے۔

چائے کی قسم اور اسے پینے کا درجۂ حرارت بھی تحقیق کا اہم حصہ تھے۔ نتائج کے مطابق سیاہ چائے اعتدال سے پینے کا دل کی صحت کے لیے ممکنہ فائدہ ہوسکتا ہے، جبکہ بہت زیادہ گرم چائے پینے والے افراد میں امراضِ قلب کا خطرہ 16 فیصد تک زیادہ دیکھا گیا۔ اس کے برعکس نیم گرم چائے پینے والوں میں خطرے کی کم شرح کے ساتھ تعلق سامنے آیا۔

محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق کی کچھ حدود بھی ہیں، کیونکہ شرکا کی فراہم کردہ معلومات پر انحصار کیا گیا تھا۔ اس لیے ان نتائج کی بنیاد پر یہ ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ چائے پینا براہِ راست دل کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ اس تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

چائے میں قدرتی طور پر پولی فینولز نامی مرکبات پائے جاتے ہیں، جن میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ مرکبات جسم میں سوزش کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر خون کی شریانوں کے خلیات کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ اس طرح بلڈ پریشر اور دل پر پڑنے والے دباؤ میں کمی کا امکان ہوسکتا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید شواہد درکار ہیں۔

تحقیق کا اہم پیغام یہ ہے کہ چائے پینے کی عادت کے ساتھ اس کا درجۂ حرارت بھی قابلِ توجہ ہے۔ چائے اعتدال سے پینا اور اسے حد سے زیادہ گرم حالت میں پینے سے گریز کرنا بہتر ہے۔ اس کے ساتھ متوازن غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا بھی دل کی صحت کے لیے ضروری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں