خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور میں دوسرے روز بھی مختلف راستے بند ہیں، جبکہ شہر کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔
شہر کی مختلف سڑکوں پر کنٹینرز رکھ کر آمد و رفت محدود کر دی گئی ہے۔ بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) سروس بھی مسلسل دوسرے روز معطل ہے، جس کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
پشاور کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں عام تعطیل ہے، تاہم سرکاری دفاتر کھلے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر ٹریفک کا رش بھی معمول سے کم ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کی منظوری دی تھی۔
جاری اعلامیے کے مطابق صوبے میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کا نفاذ کیا گیا ہے، جن کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج لگایا گیا ہے۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر دستخط کیے۔





