ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۱۲:۴۴ شام
 

روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر 277 روپے کی سطح پر

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

پاکستانی روپے نے 2026 کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں مجموعی طور پر استحکام برقرار رکھتے ہوئے معمولی بہتری بھی حاصل کی ہے۔ سال کے آغاز میں 280 سے 282 روپے کی سطح کے مقابلے میں جمعہ کو ڈالر 277.32 روپے پر بند ہوا۔

تیل کی بلند قیمتوں اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود رواں سال کی پہلی ششماہی میں روپے کی قدر میں استحکام کا سلسلہ برقرار رہا۔

جمعہ کو انٹربینک مارکیٹ میں روپے کی قدر میں 3 پیسے، یعنی 0.01 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک روز قبل ڈالر 277.35 روپے پر بند ہوا تھا۔

روپے کی موجودہ کارکردگی گزشتہ برسوں میں نظر آنے والی قدر میں تیز اتار چڑھاؤ کی صورتحال سے مختلف ہے۔ جنوری کے آخر میں ڈالر 279.77 روپے پر ٹریڈ ہورہا تھا، جس کے بعد روپے نے بتدریج بہتری دکھاتے ہوئے 277 روپے کی سطح کے قریب جگہ بنائی۔

رواں سال بیرونی دباؤ کے باوجود پاکستانی کرنسی نسبتاً مستحکم رہی ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر، ترسیلات زر اور بیرونی فنانسنگ کے بہتر انتظام سے مقامی مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی کو سہارا ملا، جبکہ ڈالر کی طلب میں کمی نے روپے پر دباؤ محدود رکھا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسی بھی مالیاتی اور بیرونی استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز رہی ہے۔ سال کے آغاز میں مرکزی بینک نے کہا تھا کہ مضبوط زرمبادلہ کے ذخائر اور روپے کا استحکام ملکی معاشی صورتحال کو سہارا دینے والے عوامل میں شامل ہیں۔ توقع ظاہر کی گئی تھی کہ 2026 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر سے تجاوز کرسکتے ہیں۔

حالیہ استحکام اس لیے بھی اہم ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے بھی عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔

پاکستان کے لیے تیل کی بلند قیمتیں ایک اہم بیرونی خطرہ ہیں کیونکہ ملک اپنی پٹرولیم ضروریات کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل بڑھنے کے ساتھ ڈالر کی طلب میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔

اگر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ طویل عرصے تک برقرار رہتا ہے تو روپے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس صورتحال میں کرنسی کی سمت برآمدات، ترسیلات زر، غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرونی فنانسنگ سے حاصل ہونے والی ڈالر کی آمد کے ساتھ توانائی اور دیگر درآمدات کے لیے درکار زرمبادلہ کے درمیان توازن پر منحصر ہوگی۔

حالیہ دنوں کے اعداد و شمار بھی روپے کی محدود روزانہ نقل و حرکت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ 8 ستمبر کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 277.37 روپے، 9 ستمبر کو 277.36 روپے، 10 ستمبر کو 277.35 روپے جبکہ 11 ستمبر کو 277.32 روپے پر رہا۔

ماہرین کے مطابق 2026 کے دوران روپے کی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کرنسی شدید اتار چڑھاؤ کے دور سے نکل کر نسبتاً منظم استحکام کی جانب بڑھی ہے۔ تاہم، موجودہ صورتحال کو روپے کی مسلسل اور طویل مدتی قدر میں اضافے کا آغاز قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

رواں سال کے باقی عرصے میں تیل کی عالمی قیمتیں، ترسیلات زر، برآمدی آمدنی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور سرکاری بیرونی فنانسنگ روپے کی سمت طے کرنے والے اہم عوامل ہوں گے۔

توانائی کی قیمتوں میں طویل مدتی اضافہ روپے کو حاصل ہونے والے کچھ فوائد کو متاثر کرسکتا ہے، جبکہ ڈالر کی مضبوط آمد اور بیرونی ادائیگیوں میں بہتری موجودہ سطح کے آس پاس روپے کا استحکام برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہے۔

یوں ڈالر کے مقابلے میں 277.32 روپے پر بند ہونے والا پاکستانی روپیہ 2026 میں اب تک سال کے آغاز کے مقابلے میں قدرے مضبوط پوزیشن میں ہے۔ تاہم، آنے والے مہینوں میں اس کی سمت کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان ڈالر کی مناسب آمد برقرار رکھنے، درآمدی بل کو قابو میں رکھنے اور توانائی کی بلند قیمتوں کے اثرات برداشت کرنے میں کس حد تک کامیاب رہتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں