واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے روس کو ہدف بنانے والی نئی پابندیوں اور ٹیرف کے نفاذ سے چھوٹ دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ہفتے قبل ہی ٹرمپ نے یوکرین جنگ کے باعث ماسکو پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے قانون سازی کی منظوری دی تھی۔
اس حکم کے تحت 2026 کے لنڈسے او گراہم ایکٹ برائے روس اور ایران پر پابندیوں کے تحت متعارف کرائے گئے اقدامات معطل کر دیے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے اس قانون پر 18 ستمبر کو دستخط کیے تھے۔
قانون سازی میں روسی تیل اور گیس کے بڑے خریداروں پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ اس کے علاوہ روسی حکام، مالیاتی اداروں اور توانائی کے شعبے کو ہدف بنانے والی پابندیاں بھی شامل تھیں۔
ٹرمپ نے قومی مفاد کا حوالہ دے دیا
وائٹ ہاؤس کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ٹرمپ نے اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرتے ہوئے پابندیوں سے عارضی چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔
حکم نامے میں روسی توانائی کی خریداری اور پابندیوں سے بچنے کی کوششوں سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی کا انتظام بھی شامل ہے۔ تاہم، دیگر صدارتی اختیارات کے تحت پہلے سے عائد پابندیاں اس فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گی۔
روسی ڈیزل کی فراہمی سے متعلق معاہدہ
یہ فیصلہ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کے بعد سامنے آیا ہے، جس کے تحت پابندیوں میں نرمی کے ذریعے روسی ڈیزل کی برآمدات کی اجازت دی گئی۔
اس انتظام کا مقصد توانائی کی بلند قیمتوں کے دوران عالمی ایندھن کی منڈیوں پر دباؤ کم کرنا بتایا گیا ہے۔
تاہم، متعدد امریکی قانون سازوں نے اس معاہدے پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روس کی توانائی سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی یوکرین میں جاری جنگ کے لیے ماسکو کی فوجی کارروائیوں میں مدد دے سکتی ہے۔
یوکرین اور امریکا کے تعلقات پر دباؤ
روس کو پابندیوں میں ریلیف دینے کے فیصلے سے واشنگٹن اور کیف کے تعلقات مزید دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے، جبکہ یوکرینی افواج روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہیں۔
ان پابندیوں کا مقصد روسی توانائی خریدنے والے ممالک، خصوصاً ایشیا کے بڑے درآمد کنندگان پر بھی دباؤ بڑھانا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے حکم نامے کے تحت حالات تبدیل ہونے کی صورت میں امریکی انتظامیہ کو پابندیوں سے دی گئی چھوٹ پر دوبارہ غور کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
یہ فیصلہ امریکا کے لیے دو اہم ترجیحات کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے: ایک جانب توانائی کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا اور دوسری جانب یوکرین جنگ کے تناظر میں روس پر معاشی دباؤ برقرار رکھنا۔





