پشاور: گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام کو درپیش مشکلات کا احساس کرتے ہوئے طبی نظام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماہر ڈاکٹرز کی خدمات صرف پشاور تک محدود نہیں رہنی چاہئیں بلکہ انہیں صوبے کے تمام اضلاع میں فرائض انجام دینے چاہئیں۔
پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان کی طبی برادری کو دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، تاہم خیبر پختون خوا کے پسماندہ علاقوں میں لوگوں کو اب بھی ماہر ڈاکٹروں اور خصوصی طبی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
گورنر نے کہا کہ پشاور کے علاوہ دیگر اضلاع میں ماہر ڈاکٹرز ڈیوٹی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اس صورتِ حال کو بہتر بنانے کے لیے وہ مشیرِ صحت خیبر پختون خوا کو ایک منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کریں گے، تاکہ صوبے کے ہر ضلع میں ماہر ڈاکٹرز کی تعیناتی اور ڈیوٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ صوبے کے نوجوان ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں گے اور ملازمت کے تحفظ سمیت ان کے دیگر مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس مقصد کے لیے سب کی حمایت درکار ہے اور ان کے دفتر کے دروازے ہمیشہ سب کے لیے کھلے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے کے طبی نظام میں بہتری لانے کے لیے مشترکہ کوششوں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔




