پشاور: گورنر خیبر پختونخوا کی مشیرِ اطلاعات ثمر ہارون بلور نے کہا ہے کہ صوبے کی نئی قیادت کی پالیسیوں اور اقدامات کے نتیجے میں پہلے مکمل امن قائم کیا جائے گا، جس کے بعد ترقی کا سفر شروع ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ صوبے میں سیکیورٹی فورسز اور عوام کے حوصلے بہتر ہوئے ہیں اور جلد زمینی سطح پر بھی حالات میں نمایاں بہتری دکھائی دے گی۔
صوبے کی امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو ماضی میں بدامنی اور مشکلات سے دوچار کیا گیا، تاہم اب جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کے بقول ان اقدامات کے نتیجے میں پہلے امن قائم ہوگا اور پھر ترقیاتی عمل آگے بڑھے گا۔
ثمر ہارون بلور نے بتایا کہ حکومت کی زیادہ توجہ قبائلی علاقوں پر ہے، اسی لیے وہاں الگ انتظامی سیٹ اپ قائم کیا گیا ہے تاکہ کام تیزی اور بہتر منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ سکیں اور کاغذی کارروائی یا دفتری رکاوٹوں کے باعث تاخیر کا شکار نہ ہوں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی کارکردگی کے لیے واضح روڈ میپ اور جامع منصوبہ تیار کرکے عوام کے سامنے پیش کرے گی اور خود کو عوام کے سامنے جواب دہ بنائے گی۔
وفاقی حکومت کے تعاون سے متعلق سوال پر مشیرِ اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا کو وفاق کی جانب سے فنڈز بھی ملیں گے اور تعاون بھی حاصل ہوگا۔
گورنر کی مشاورتی کونسل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ثمر ہارون بلور نے کہا کہ کونسل میں شامل افراد کسی ذاتی غرض، مفاد یا لالچ کے بغیر خیبر پختونخوا کے عوام کی خدمت کے لیے آگے آئے ہیں۔
ان کے مطابق کونسل کے ارکان اعلیٰ تعلیم یافتہ، شریف اور غیر متنازع شخصیات ہیں، جو اپنے تجربے، علم اور دانش کو عوام کی بہتری اور صوبے کی فلاح و ترقی کے لیے بروئے کار لانے کا عزم رکھتے ہیں۔





