بلوچستان میں تقریباً 16 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت نے سرکاری اسکولوں میں دوسرے شفٹ کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت موجودہ اسکولوں کی عمارتوں کو صبح کے علاوہ شام کے وقت بھی تدریسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت 9 اکتوبر کو ہونے والے صوبائی کابینہ کے اجلاس میں سرکاری اسکولوں میں دو شفٹوں میں تدریس کی پالیسی اور بلوچستان نان فارمل ایجوکیشن ایکٹ 2025 کی منظوری دی گئی۔
دوسرے شفٹ کی پالیسی کیا ہے؟
صوبائی حکومت کے اعلامیے کے مطابق اس پالیسی کا مقصد سرکاری اسکولوں کی موجودہ عمارتوں اور سہولتوں سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھانا ہے۔ صبح کی شفٹ ختم ہونے کے بعد انہی عمارتوں میں شام کے وقت بھی تدریسی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔
حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے دو اہم فوائد حاصل ہوں گے۔ ایک یہ کہ نئے اسکولوں کی تعمیر کا انتظار کیے بغیر مزید بچوں کو موجودہ اسکولوں میں داخلے اور تعلیم کے مواقع مل سکیں گے۔ دوسرا یہ کہ پہلے سے موجود عمارتوں اور دیگر وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔
16 لاکھ بچوں کو تعلیم کی طرف واپس لانے کا منصوبہ
صوبائی کابینہ نے تعلیم کے شعبے میں ایک اور اہم اقدام کی منظوری بھی دی ہے۔ حکومت نے 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ ایسے بچوں کو دوبارہ تعلیمی عمل میں شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر روایتی اسکولوں سے محروم رہ گئے ہیں۔
اس مقصد کے لیے غیر رسمی تعلیم کا نیا پروگرام شروع کیا جائے گا، جس کے ذریعے ان بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
کابینہ نے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے انتظامی بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی ہے، جس کا مقصد ادارے کے انتظامی امور کو مزید بہتر بنانا ہے۔
پالیسی پر عمل درآمد اہم چیلنج ہوگا
ماہرین کے مطابق بلوچستان میں دوسرے شفٹ کا آغاز مزید بچوں کو تعلیم کے مواقع فراہم کر سکتا ہے، تاہم اس منصوبے کی کامیابی کے لیے متعدد امور پر توجہ دینا ضروری ہوگا۔ ان میں اساتذہ کی مناسب تعداد، بجٹ کی دستیابی، تعلیمی معیار برقرار رکھنا اور پروگرام کی مؤثر نگرانی شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کا ہدف صرف داخلوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ بچوں کی مسلسل حاضری، تعلیم مکمل کرنے اور تعلیمی نتائج کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔
حکومتی اعلامیے میں تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دوسرے شفٹ کا آغاز کب ہوگا، کن اسکولوں میں اس کا نفاذ کیا جائے گا اور اساتذہ کی تعیناتی کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
کابینہ کی منظوری بلوچستان میں تعلیمی مواقع بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم اس منصوبے کے حقیقی نتائج کا انحصار بروقت اور مؤثر عمل درآمد پر ہوگا۔





