نئی دہلی میں ہونے والے 18ویں برکس سربراہی اجلاس کے پہلے روز رکن ممالک نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور تنازع مزید بڑھانے والے اقدامات سے گریز پر زور دیا ہے۔
چین، روس، ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت برکس کے 11 رکن ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں شہریوں کے تحفظ، ریاستوں کی خودمختاری اور خطے میں تجارت، توانائی اور بحری جہاز رانی کے آزادانہ بہاؤ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک مشرق وسطیٰ اور مغربی ایشیا میں کشیدگی میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ تمام فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔
برکس ممالک نے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے حفاظتی انتظامات کے تحت آنے والی پرامن جوہری تنصیبات اور شہری انفرااسٹرکچر پر حملوں کی بھی شدید مذمت کی۔
اعلامیے کے مطابق جوہری تنصیبات پر ایسے حملے بین الاقوامی قانون اور آئی اے ای اے کی متعلقہ قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ رکن ممالک نے زور دیا کہ مسلح تنازعات کے دوران بھی جوہری تنصیبات کی حفاظت، سلامتی اور حفاظتی انتظامات برقرار رہنے چاہئیں تاکہ انسانی جانوں اور ماحول کو نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔
برکس اعلامیے میں غزہ، لبنان، سوڈان اور شام کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا اور ان علاقوں میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کا مطالبہ کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیہ کئی ماہ کے اختلافات کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل مئی میں نئی دہلی میں ہونے والے برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں رکن ممالک مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مشترکہ اعلامیے پر اتفاق نہیں کرسکے تھے۔
بھارت نے نئی دہلی اجلاس کے دوران ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی رابطوں پر بھی توجہ مرکوز رکھی۔
خارجہ پالیسی کے تجزیہ کاروں کے مطابق برکس ممالک کا مشترکہ اعلامیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ رکن ممالک اپنے اختلافات کے باوجود باہمی بات چیت کا سلسلہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق اس اعلامیے سے فوری طور پر جاری تنازعات کا رخ تبدیل ہونے کا امکان کم ہے، البتہ اس سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کے درمیان مشترکہ مؤقف سامنے آیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بھارت کے سابق سفیر سنجے سدھیر نے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے خاتمے کی کلید امریکا اور اسرائیل کے پاس ہے۔ ان کے مطابق بھارت کی کوشش ہے کہ مشکل سفارتی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے اور خطے کے مختلف ممالک کو ایک میز پر لایا جائے۔
چینی صدر شی جن پنگ نے بھی برکس سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی تصفیے پر زور دیا۔ سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق شی جن پنگ نے کہا کہ جنگ کسی کے مفادات کی تکمیل نہیں کرتی۔
چینی صدر نے فریقین پر زور دیا کہ وہ سیاسی حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں اور مستقل و جامع جنگ بندی کے حصول کے لیے کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ چین مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنا مناسب کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے برکس رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ باہمی تعاون کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے پر توجہ دیں۔





