تحریر: ایم اے تبسم،لاہور
کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کی ترقی اور خوشحالی کا دارومدار اس کے دو بنیادی ستونوں پر ہوتا ہے،اول تعلیم اور دوم صحت، اگر کسی معاشرے میں یہ دونوں شعبے زوال کا شکار ہو جائیں تو وہ قوم عالمی سطح پر اپنا وجود برقرار رکھنے کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ دورِ حاضر کے پاکستان پر اگر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ ہم اس وقت ایک سنگین تعلیمی اور طبی بحران سے گزر رہے ہیں۔ روایتی ڈگریوں کی بھرمار نے جہاں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کیا ہے، وہاں ہمارے صحت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے والے ماہرین کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں، گزشتہ روز مجھے کچھ اہم اور مستند معلومات کے حصول کے لیے لاہور کے ایک ابھرتے ہوئے تعلیمی مرکز،ایفرو ایشین انسٹی ٹیوٹ، حمزہ ٹاون لاہور میں جانے کا اتفاق ہوا۔
یہ انسٹی ٹیوٹ لاہور فیروزپور روڈ پریوحنا آباد کے بالکل سامنے حمزہ ٹاون میں واقع ہے۔ وہاں پہنچ کر جب میری نظر انسٹی ٹیوٹ کی عمارت پر پڑی تو ایسا لگا جیسے ہم دورِ جدید کے کسی بین الاقوامی تعلیمی شاہکار کو اپنے سامنے دیکھ رہے ہوں، اور اس کی شاندار و جدید عمارت کو دیکھ کر دل کو یقین ہو گیا کہ یہاں خواب صرف دیکھے نہیں جاتے بلکہ انہیں حقیقت کا روپ دیا جاتا ہے۔ اس شاندار اور زبردست عمارت کے اندر قدم رکھتے ہی وہاں کے بہترین سٹاف اور سب سے بڑھ کر ان کے پیشہ ورانہ اور محبت بھرے رویے نے دل جیت لیا۔ کیمپس کا جدید انفراسٹرکچر، تعلیمی ماحول اور نظم و ضبط اپنی جگہ، لیکن ادارہ ہذا کے چیئرمین ڈاکٹر محمد شعیب رانا کے ساتھ ہونے والی طویل اور تفسیلی ملاقات نے پاکستان کے طبی اور تعلیمی مستقبل کے حوالے سے دل میں ایک نئی امید اور ولولہ پیدا کر دیا۔
ڈاکٹر محمد شعیب رانا کے ساتھ ہونے والی گفتگو محض ایک رسمی ملاقات نہیں تھی، بلکہ یہ پاکستان کے تعلیمی نظام کے نقائص، مارکیٹ کی بدلتی ہوئی ضروریات اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کی اہمیت پر ایک گہرا فکری تبادلہ تھا۔ چیئرمین ڈاکٹر محمد شعیب رانا کا ویژن انتہائی واضح اور متاثر کن تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت گزر چکا ہے جب صرف ایم بی بی ایس یا روایتی بی اے اور بی ایس سی کی ڈگریوں کو کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ آج دنیا بدل چکی ہے۔ گلوبل ہیلتھ کیئر انڈسٹری میں اب ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ پیرامیڈیکل اسٹاف, ٹیکنالوجسٹس اور الائیڈ ہیلتھ پروفیشنلز ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں طویل عرصے تک اس شعبے کو نظر انداز کیا گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے ہسپتالوں میں جدید ترین مشینیں تو موجود ہیں لیکن انہیں درست طریقے سے چلانے اور مریضوں کی بہتر نگہداشت کرنے والے ماہرین دستیاب نہیں۔ایفرو ایشین انسٹی ٹیوٹ نے اسی خلا کو پر کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔
ملاقات کے دوران پرنسپل ڈاکٹر محمد عاقب نعیم نے انسٹی ٹیوٹ میں پڑھائے جانے والے مختلف کورسز اور ان کی عملی افادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ادارہ ہذا میں اس وقت فال 2026 کے داخلے آخری مراحل میں ہیں۔ یہاں میڈیکل اینڈ الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے تحت ایسے پروگرامز کروائے جا رہے ہیں جن کی مانگ نہ صرف پاکستان بلکہ خلیجی ممالک، یورپ اور امریکہ میں بھی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ان میں DPT (ڈاکٹر آف فزیکل تھراپی) جیسا معتبر پروگرام شامل ہے، جو معذوری اور پٹھوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کو ایک نئی زندگی دینے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ BS-RIT (ریڈیولوجی اینڈ امیجنگ ٹیکنالوجی) اور BS-MLT (میڈیکل لیبارٹری ٹیکنالوجی) جیسے شعبے ہیں، جن کے بغیر کوئی بھی ڈاکٹر کسی مریض کی بیماری کی درست تشخیص نہیں کر سکتا۔ آپریشن تھیٹر کو سنبھالنے کے لیے BS-OTT (آپریشن تھیٹر ٹیکنالوجی) کے ماہرین تیار کیے جا رہے ہیں، جو جراحی کے عمل میں ڈاکٹروں کے دست و بازو بنتے ہیں۔
موجودہ دور جہاں صحت کے بحرانوں کا امین ہے، وہیں یہ چوتھے صنعتی انقلاب یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور بھی ہے۔ اس حقیقت کو بھانپتے ہوئے ایفرو ایشین انسٹی ٹیوٹ نے صحت کے ساتھ ساتھ کمپیوٹر سائنس کے شعبے کو بھی خصوصی اہمیت دی ہے۔ کیمپس میں BS-CS اور BS-IT جیسے جدید ترین پروگرامز کے ذریعے نوجوانوں کو آرٹیفیشل انٹیلیجنس، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل اسکلز سکھائی جا رہی ہیں تاکہ وہ فری لانسنگ اور گلوبل آئی ٹی مارکیٹ میں ملک کا نام روشن کر سکیں۔ اس کے علاوہ، انسانی رویوں اور ذہنی صحت کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے BS Applied Psychology، کارپوریٹ سیکٹر کے لیے BBA اور لسانی مہارت کے لیے BS English جیسے پروگرامز بھی اس تعلیمی ویژن کا حصہ ہیں۔ جو طلبہ فارغ التحصیل ہو کر چار سالہ ڈگری کی استطاعت نہیں رکھتے، ان کے لیے دو سالہ ڈپلومہ پروگرامز بشمول RIT، OTT، ڈسپنسر اور فارمیسی ٹیکنیشن (کیٹیگری-B) جیسے کورسز متعارف کروائے گئے ہیں، تاکہ کم وقت میں نوجوان اپنے پاوں پر کھڑے ہو کر معاشی خود کفالت حاصل کر سکیں۔
تعلیم کا اصل مقصد صرف امتحانی ہال میں بیٹھ کر چند صفحات کالے کرنا اور ایک کاغذ کا ٹکڑا حاصل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ تعلیم نام ہے کردار سازی کا، شعور کا اور عملی زندگی میں معاشرے کے کام آنے کا۔ ایفرو ایشین انسٹی ٹیوٹ، حمزہ ٹاون لاہور کا وزت کرنے کے بعد مجھے یہ احساس ہوا کہ یہ ادارہ محض ایک تجارتی مرکز نہیں ہے، بلکہ یہاں تعلیمی اقدار کو اولیت دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر محمد شعیب رانا اور ڈاکٹر محمد عاقب نعیم کی قیادت میں اساتذہ کی ٹیم طلبہ کی نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی کلینیکل اور عملی تربیت پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ ہسپتالوں کے ساتھ الحاق اور جدید لیبارٹریز اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والا نوجوان جب عملی میدان میں قدم رکھے گا تو وہ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو گا۔
آج کل کے نوجوانوں اور ان کے والدین کے لیے یہ وقت انتہائی نازک اور اہم ہے۔ ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کرنے کے بعد کا یہ عرصہ مستقبل کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ ایک غلط فیصلہ یا روایتی بھیڑ چال میں شامل ہونا عمر بھر کے پچھتاوے کا باعث بن سکتا ہے۔ میں اپنے پڑھنے والے قارئین سے کہوں گا کہ اپنے بچوں کے بہترین مستقبل کے لیے ایک بار فیروزپور روڈ پر واقع ایفرو ایشین انسٹی ٹیوٹ، حمزہ ٹاون کا لازمی وزٹ کریں، تاکہ آپ اپنے بچوں کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارتے ہوئے خود دیکھ سکیں۔ روایتی اور فرسودہ راستوں کو چھوڑ کر ان شعبوں کا انتخاب کریں جن کی مارکیٹ کو ضرورت ہے۔ یہاں فال 2026 کے داخلے بند ہونے کو ہیں اور سیٹیں انتہائی محدود ہیں۔ یاد رکھیے، تاریخ گواہ ہے کہ مستقبل کبھی ان کا نہیں ہوتا جو سستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظار کی گھڑیاں گنتے ہیں، بلکہ مستقبل ہمیشہ ان کا ہوتا ہے جو وقت کی لہروں کو بھانپ کر آج ہی درست سمت میں ایک جرات مندانہ اور صحیح فیصلہ کرتے ہیں۔





