امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے منصوبے تیار کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں کے ممکنہ اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، میزائل اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہو سکتے ہیں۔
اخبار کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج ایران کے خلاف مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی کی تیاریوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے واقف دیگر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان مشقوں میں عراق کی فضائی حدود میں پروازیں بھی شامل ہیں، جن کے ذریعے ممکنہ حملوں کے طریقۂ کار کی مشق کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رواں ہفتے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں ایران پر ممکنہ نئے حملوں کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے ممکنہ منصوبوں میں پک ایکس ماؤنٹین پر حملہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔ اس مقام پر زمین کے اندر انتہائی گہرائی میں ایک تنصیب قائم ہے۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان حملوں کی منظوری دیں گے یا نہیں۔ ٹرمپ رواں سال بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے سے متعلق متعدد منصوبے پہلے ہی مسترد کر چکے ہیں۔
رواں ماہ کے آغاز میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت پر مبنی مذاکرات جاری ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی جو ممکن ہے موجود ہوں یا نہ ہوں۔ عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں تاکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔





