آسٹریلیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ملک میں قیام کرنے والے سیاحوں کو نئی امیگریشن پالیسی کے تحت حراست میں لیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قانونی اجازت کے بغیر آسٹریلیا میں مقیم افراد کی تعداد کم کرنا ہے۔
اسسٹنٹ وزیر خارجہ میٹ تھسل تھوائٹ نے جمعہ کو کہا کہ ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی حراست کو بطور روک تھام استعمال کیا جائے گا۔ ایسے افراد کی تعداد بڑھ کر تقریباً 77 ہزار ہوچکی ہے۔
میٹ تھسل تھوائٹ نے کہا کہ جن افراد کو آسٹریلیا میں قیام کا قانونی حق حاصل نہیں ہوگا انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں ملک سے واپس بھیج دیا جائے گا۔
امیگریشن وزیر ٹونی برک نے جمعرات کو ان اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ یہ اقدامات ایک وسیع پیکیج کا حصہ ہیں جس کا مقصد آسٹریلیا میں ہجرت کی شرح کم کرنا اور ویزا قوانین پر عمل درآمد مزید مؤثر بنانا ہے۔
نئی اصلاحات کے تحت بعض حالات میں بین الاقوامی طلبہ کے اہل خانہ کو ان کے ساتھ آسٹریلیا آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے علاوہ ورکنگ ہالی ڈے ویزے قرعہ اندازی کے ذریعے جاری کیے جائیں گے۔
حکومت ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والے افراد کے خلاف کارروائی بھی مزید سخت کرے گی۔
ٹونی برک نے کہا کہ حکومت ایسے افراد سے نمٹنے کے لیے امیگریشن حراستی مراکز میں مزید 250 بستروں کا اضافہ کرے گی جبکہ ویزا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی نگرانی اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے مزید 100 افسران بھی تعینات کیے جائیں گے۔
یہ اصلاحات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب آسٹریلوی حکومت کو ملک میں ہجرت کی شرح کے معاملے پر سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ حکمران لیبر پارٹی نے اس تاثر کی تردید کی ہے کہ یہ اقدامات دائیں بازو کی جماعت ون نیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث کیے گئے ہیں۔ ون نیشن طویل عرصے سے ہجرت میں نمایاں کمی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
سیاحتی صنعت کو تشویش

سیاحوں کو حراست میں لیے جانے کے امکان پر آسٹریلیا کے سیاحتی شعبے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
آسٹریلین ٹورزم انڈسٹری کونسل کی چیف ایگزیکٹو ایرن میک لیوڈ نے کہا کہ حراست سے متعلق حکومت کی جانب سے استعمال کی جانے والی زبان آسٹریلیا کی ایک ایسے ملک کی حیثیت سے ساکھ کو متاثر کرسکتی ہے جہاں سیاحوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ اس طرح کے بیانات آسٹریلیا کی ایک خوش آمدید کہنے والی سیاحتی منزل کے طور پر ساکھ کے لیے اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت آسٹریلیا کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔
آسٹریلین ٹورزم انڈسٹری کونسل ملک بھر میں ہزاروں چھوٹے سیاحتی کاروباروں کی نمائندگی کرتی ہے۔
مہاجرین کے حقوق کے گروپوں کے تحفظات
ریفیوجی کونسل آف آسٹریلیا کی ڈائریکٹر پالیسی ربیکا ایکارڈ نے بھی ویزے کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں کی حراست کو بطور روک تھام استعمال کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
انہوں نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کو لوگوں کا رویہ تبدیل کرنے کے لیے سزا کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ آسٹریلیا کے امیگریشن قوانین کے تحت سزا کے طور پر حراست کی اجازت نہیں ہے۔
ربیکا ایکارڈ نے امیگریشن حراستی مراکز کے حالات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محتسب کی جانب سے عملے کی کمی اور صحت کی سہولیات تک رسائی سمیت مختلف مسائل کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔
آسٹریلیا کا امیگریشن حراستی نظام 2015 کے بعد نمایاں طور پر وسیع ہوا۔ اس عرصے میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں بعض جرائم میں ملوث افراد کے مستقل ویزے لازمی طور پر منسوخ کیے جانے لگے جبکہ ملک سے بے دخلی کے منتظر افراد کو بھی حراست میں لیا جانے لگا۔
آسٹریلوی حکومت کا کہنا ہے کہ تازہ اقدامات کا مقصد ویزا شرائط پر عمل درآمد مزید مضبوط بنانا اور ایسے افراد کو ملک سے نکالنا ہے جنہیں آسٹریلیا میں قانونی طور پر قیام کا حق حاصل نہیں ہے۔





