اسلام آباد: پاکستان میں غیر منجمد گلیشیائی جھیلوں کی تعداد 2 جولائی سے 5 اگست کے درمیان دو ماہ سے بھی کم عرصے میں 40 سے بڑھ کر 105 ہوگئی ہے۔
قومی خلائی ادارے سپارکو کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر کے تازہ جائزے میں غیر منجمد گلیشیائی جھیلوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس کی بڑی وجہ موسم گرما میں درجہ حرارت میں اضافہ اور برف پگھلنے کا عمل ہے۔
سپارکو نے بتایا کہ تازہ جائزہ 5 اگست کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصویر کی بنیاد پر کیا گیا۔ تمام شناخت شدہ جھیلوں کو آپٹیکل سیٹلائٹ تصاویر پر نقشہ بند کیا گیا تاکہ ان کے رقبے کا اندازہ لگانے کے ساتھ یہ بھی معلوم کیا جاسکے کہ وہ منجمد ہیں یا غیر منجمد۔
قومی خلائی ادارے کے مطابق موجودہ جائزے میں 105 جھیلیں غیر منجمد پائی گئی ہیں، جبکہ اس سے قبل 40 جھیلیں غیر منجمد رپورٹ ہوئی تھیں۔ بعض جھیلوں کے رقبے میں بھی وقتی تبدیلی دیکھی گئی اور چند جھیلیں اپنے پہلے ریکارڈ شدہ زیادہ سے زیادہ رقبے سے بھی بڑھ گئی ہیں۔
سپارکو نے تاہم واضح کیا کہ جولائی کی گزشتہ رپورٹ کے بعد مسلسل بادلوں کی وجہ سے صاف سیٹلائٹ تصاویر کی دستیابی محدود رہی، جس کے باعث بعض جھیلوں کے رقبے میں ہونے والی تبدیلیوں کا درست اندازہ لگانا مشکل رہا۔
سپارکو کے مطابق کسی گلیشیائی جھیل کا پانی تاریخی زیادہ سے زیادہ حد سے بڑھ جائے تو یہ زیادہ تشویش کا باعث بن سکتا ہے، کیونکہ اس سے پانی کے ذخیرے میں اضافے اور جھیل کو روکنے والے ملبے یا برف کے بند کے غیر مستحکم ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گلیشیائی جھیل کے اچانک پھٹنے سے آنے والے سیلاب، یعنی GLOF کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
خلائی ادارے نے کہا ہے کہ درجہ حرارت میں مسلسل اضافے اور غیر منجمد جھیلوں کی تعداد بڑھنے کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو بالخصوص خطرناک گلیشیائی جھیلوں کے زیریں علاقوں میں بھرپور تیاری برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سپارکو کے مطابق برف پگھلنے کے پورے موسم کے دوران سیٹلائٹ کے ذریعے جھیلوں کی باقاعدگی سے نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ جھیلوں کے رقبے میں تیزی سے اضافے یا GLOF کے خطرے کی دیگر علامات کی بروقت نشاندہی کی جاسکے اور متعلقہ اداروں کو بروقت آگاہ کیا جاسکے۔
2024 میں مکمل کی گئی گلیشیئرز کی فہرست کے مطابق پاکستان میں 13 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، جو قطبی علاقوں سے باہر گلیشیئرز کی بڑی تعداد میں شمار ہوتے ہیں۔
سپارکو کے مطابق ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے باقاعدگی سے نگرانی کی جارہی ہے تاکہ GLOF کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ابتدائی انتباہ اور پیشگی تیاری میں مدد مل سکے۔
تازہ نگرانی کے نتائج وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی GLOF مانیٹرنگ سے متعلق تکنیکی کمیٹی سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ بھی شیئر کیے گئے ہیں۔
سپارکو کے اگست کے جائزے میں مجموعی طور پر 131 ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیائی جھیلوں کی نشاندہی کی گئی، جن کے مقامات خیبر پختونخوا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور واپڈا کے گلیشیئر مانیٹرنگ اینڈ ریسرچ سینٹر سمیت متعلقہ اداروں نے فراہم کیے۔





