لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور سے نومولود بچے کے مبینہ اغوا کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے بچے کی بازیابی اور مبینہ طور پر ملوث افراد کی شناخت کے لیے سیف سٹی کیمروں سے مدد لینا شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق نومولود کو اسپتال کے لیبر روم سے مبینہ طور پر اغوا کیا گیا۔ واقعے کے بعد اسپتال میں نصب سکیورٹی کیمروں کی ویڈیوز حاصل کرکے مزید جانچ کے لیے سیف سٹی کمانڈ سینٹر بھجوائی گئی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اسپتال کے داخلی دروازے پر نصب کیمرے کی ویڈیو کے ساتھ اس رکشے کی فوٹیج بھی سیف سٹی کی تکنیکی ٹیم کے حوالے کی گئی ہے، جس میں مبینہ طور پر ایک خاتون بچے کو اسپتال سے لے کر گئی۔
حکام کے مطابق رات کے وقت اندھیرے کے باعث اسپتال کے گیٹ پر نصب کیمرے کی ریکارڈنگ میں رکشے کا نمبر واضح طور پر نظر نہیں آرہا، جس کی وجہ سے گاڑی کی شناخت میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
پولیس نے رکشے کی شناخت اور اس کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے سیف سٹی کے دیگر کیمروں کی مدد سے اس کے ممکنہ روٹ کی نگرانی شروع کردی ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کا مقدمہ خان رازق پولیس اسٹیشن میں درج کرلیا گیا ہے جبکہ نومولود کی بازیابی کے لیے تلاش اور تفتیش جاری ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد مبینہ خاتون اور رکشے کی شناخت سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔





