پیر, اکتوبر ۱۹, ۲۰۲۶ – ۱۰:۲۹ شام
 

پاکستان کا ڈیری برآمدات میں بڑا ہدف، 2035 تک 2 ارب ڈالر کمانے کی تیاری

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

اسلام آباد: پاکستان ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے دودھ کی منڈی کو آزاد کرنے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی پر غور کر رہا ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت 2035 تک ڈیری مصنوعات کی سالانہ برآمدات 2 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مالی سال 2029-30 تک برآمدات 50 کروڑ ڈالر تک لے جانے کی تجویز ہے۔

یہ پالیسی فریم ورک منصوبہ بندی کمیشن، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق، اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت (FAO) اور صنعتی شعبے کے نمائندوں نے ’اڑان پاکستان‘ اقدام کے تحت تیار کیا ہے۔ اس کا عنوان ’پاکستان کی ڈیری برآمدات بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی‘ رکھا گیا ہے۔

مجوزہ منصوبے میں دودھ کو اشیائے ضروریہ کی فہرست سے نکالنے اور اس کی منڈی کو آزاد کرنے پر بھی غور کیا گیا ہے، تاکہ نجی شعبے کی سرمایہ کاری بڑھے، دودھ کی پراسیسنگ کا نظام بہتر ہو اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد ملے۔

دودھ کی پیداوار زیادہ، پراسیسنگ محدود

پاکستان ہر سال تقریباً 72 ارب لیٹر دودھ پیدا کرتا ہے، جو دنیا کی مجموعی پیداوار کا لگ بھگ 7 فیصد ہے۔ اس طرح پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا چوتھا بڑا ملک ہے، تاہم اس بڑی پیداوار کے باوجود ڈیری مصنوعات کی تجارت میں ملک کو مشکلات کا سامنا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پاکستان کو ڈیری مصنوعات کی تجارت میں 3 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں پیدا ہونے والے دودھ کا صرف تقریباً 5 فیصد باقاعدہ پراسیسنگ کے نظام سے گزرتا ہے۔

مجوزہ پالیسی میں دودھ کی کم پیداوار، پراسیسنگ کی ناکافی سہولتوں، ترسیل کے دوران ضیاع اور قیمتوں پر کنٹرول کو سرمایہ کاری اور عالمی منڈی میں مسابقت کی راہ میں بڑی رکاوٹیں قرار دیا گیا ہے۔

ٹیکس میں کمی اور سرمایہ کاری کے لیے مراعات

ڈیری صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے تیار کردہ فریم ورک میں پراسیسنگ کے ذریعے قدر میں اضافہ کرنے والی ڈیری مصنوعات پر ٹیکس کی شرح 18 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ڈیری پراسیسنگ کی مشینری، جانوروں کے جینیاتی مواد اور مویشیوں کی خوراک کے ضروری اجزا کی درآمد پر عائد ڈیوٹیز ختم کرنے یا زیادہ سے زیادہ 5 فیصد تک محدود رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مجوزہ پالیسی کے مطابق لائسنس یافتہ ڈیری فارمز اور پراسیسنگ یونٹس کو زرعی بجلی کے خصوصی نرخوں سے فائدہ پہنچانے کی تجویز بھی شامل ہے۔

دودھ کو محفوظ رکھنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مالی معاونت کی سفارش کی گئی ہے۔ اس ضمن میں شمسی توانائی سے چلنے والے دودھ ٹھنڈا کرنے کے آلات تک رسائی بڑھانے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ دودھ کا معیار برقرار رہے اور ضیاع کم ہو۔

چھوٹے کسانوں کے لیے قرض اور کاروباری شراکت داری

چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تجویز دی گئی ہے کہ مویشیوں کو بھی قرض کی ضمانت کے طور پر قبول کیا جائے۔ اس اقدام سے ان کسانوں کو بھی مالی وسائل تک رسائی مل سکتی ہے جن کے پاس زمین یا دیگر روایتی اثاثے ضمانت کے لیے موجود نہیں۔

فریم ورک میں نجی کمپنیوں کو چھوٹے کسانوں کے ساتھ مل کر کوآپریٹو ادارے اور کاروباری گروپ قائم کرنے کی ترغیب دینے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

اس طریقہ کار کے تحت کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت فراہم کی جائے گی، جبکہ کمپنیاں طے شدہ قیمتوں اور معیار کے مطابق ان سے دودھ خریدیں گی۔

اس نظام کا مقصد چھوٹے کسانوں کو دودھ کی باقاعدہ سپلائی چین کا حصہ بنانا، فارموں میں پیداوار بڑھانا اور پراسیسنگ و برآمدات کے لیے دودھ کی مسلسل فراہمی یقینی بنانا ہے۔

مویشیوں کی افزائش اور بیماریوں کی روک تھام

مجوزہ پالیسی فریم ورک کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً 15 لاکھ دودھ دینے والے مویشی اور 20 لاکھ بچھڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس نقصان سے مویشیوں کی افزائش اور دودھ کی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے جنس کے انتخاب کی بنیاد پر مصنوعی نسل کشی کی ٹیکنالوجی (Sexed Semen) اور جنین کی منتقلی (Embryo Transfer) کی سہولتیں بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان جدید طریقوں سے مویشیوں کی نسل بہتر بنانے اور دودھ کی پیداوار میں اضافے میں مدد مل سکتی ہے۔

پالیسی میں جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی اور ان کی نقل و حرکت کا ریکارڈ رکھنے کے لیے قومی سطح پر ڈیجیٹل نظام قائم کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب اور سندھ میں عالمی معیار کے مطابق بیماریوں سے پاک ڈیری پیداواری علاقے قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ پاکستان کی ڈیری مصنوعات درآمد کرنے والے ممالک کے صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق تقاضے پورے کرسکیں۔

مجوزہ اقدامات کا بنیادی مقصد ڈیری صنعت میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا، دودھ کے ضیاع کو کم کرنا، پیداوار اور پراسیسنگ کا معیار بہتر بنانا اور پاکستانی ڈیری مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانا ہے۔ تاہم یہ اہداف حاصل کرنے کے لیے پالیسی تجاویز پر عمل درآمد اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری اہم ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں