ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۳:۰۵ شام
 

پاکستان کا مالی شمولیت اشاریہ 59.5 تک پہنچ گیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

اسلام آباد: پاکستان میں مالی خدمات کے استعمال اور ان تک عوام کی رسائی میں بہتری کے باعث مالی شمولیت کا اشاریہ 2025 میں 58.1 سے بڑھ کر 59.5 ہوگیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2025 کے مالی شمولیت اشاریے کے نتائج جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں مالی خدمات تک رسائی، ان کے استعمال اور معیار تینوں شعبوں میں مسلسل بہتری ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اشاریے میں اضافے میں سب سے اہم کردار مالی خدمات کے استعمال میں اضافے کا رہا، جبکہ خدمات تک رسائی اور ان کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق نیشنل فنانشل انکلوژن اسٹریٹیجی 2024-28 کے تحت جاری ڈیجیٹل اقدامات نے اس پیش رفت میں اہم کردار ادا کیا۔ خاص طور پر Raast کے ذریعے دکانداروں اور کاروباری افراد کو ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں شامل کرنا، ڈیجیٹل ادائیگیوں کا دائرہ وسیع کرنا، ڈیجیٹل بینکوں کا آغاز اور بینک اکاؤنٹس کھولنے کی مہمات مالی شمولیت میں اضافے کا سبب بنیں۔

بینک کا کہنا ہے کہ صارفین کی ضروریات پر زیادہ توجہ اور مالی معاملات سے متعلق آگاہی میں اضافے نے بھی مالی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد دی۔

مالی شمولیت کیسے ناپی جاتی ہے؟

اسٹیٹ بینک نے مالی شمولیت کا اشاریہ دسمبر 2025 میں متعارف کرایا تھا۔ یہ صرف اس بات کا جائزہ نہیں لیتا کہ کسی شخص کے پاس بینک اکاؤنٹ ہے یا نہیں، بلکہ مالی خدمات کے تین بنیادی پہلوؤں، یعنی رسائی، استعمال اور معیار کو جانچتا ہے۔

اس اشاریے میں مجموعی طور پر 69 مختلف پیمانے شامل ہیں، جن کے ذریعے بینکاری، غیر بینکاری، رقم کی منتقلی اور ادائیگیوں سے متعلق مالی خدمات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

مالی شمولیت کے اشاریے کا مقصد ملک میں مالی خدمات کے فروغ کو اعداد و شمار اور شواہد کی بنیاد پر جانچنا اور 2030 کے لیے مقرر کیے گئے اہداف کی جانب پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔

2024 میں 58.1 کا اسکور اس اشاریے کی ابتدائی بنیاد تھا، جس کے بعد مالی شمولیت میں ہونے والی پیش رفت کو اسی بنیاد پر جانچا جا رہا ہے۔

ڈیجیٹل ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا رجحان

2025 میں مالی خدمات کے استعمال میں بہتری ایسے وقت میں سامنے آئی جب پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں اور مالی خدمات کو عام کرنے کی کوششیں تیز کی گئیں۔

اسٹیٹ بینک کا فوری ادائیگیوں کا نظام Raast اس عمل میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ Raast Person-to-Merchant (P2M) سروس کے ذریعے دکاندار اور کاروباری افراد QR کوڈ، مرچنٹ کا نام، مخصوص کوڈ اور Request to Pay سمیت مختلف طریقوں سے ڈیجیٹل ادائیگیاں وصول کرسکتے ہیں۔

ڈیجیٹل بینکوں کا آغاز بھی مالی خدمات کے دائرے کو وسیع کرنے کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد ان جغرافیائی اور دیگر رکاوٹوں کو کم کرنا ہے جن کے باعث عام افراد اور چھوٹے کاروبار رسمی مالی خدمات تک رسائی حاصل نہیں کرپاتے۔

مالی خدمات کی رسائی اور معیار میں بھی بہتری

اسٹیٹ بینک کے مطابق اگرچہ 2025 میں مالی خدمات کے استعمال کے شعبے میں سب سے زیادہ بہتری آئی، تاہم خدمات تک رسائی اور معیار کے شعبوں میں بھی مثبت پیش رفت ہوئی۔

رسائی کا شعبہ یہ جانچتا ہے کہ مالی خدمات کتنے لوگوں تک دستیاب ہیں، جبکہ معیار کے ذریعے یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ خدمات صارفین کی ضروریات کے لیے کس حد تک موزوں، قابل اعتماد اور قابل استعمال ہیں۔

مالی شمولیت کے اشاریے کا 58.1 سے بڑھ کر 59.5 ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل مالی خدمات کا استعمال بڑھ رہا ہے، مالی خدمات تک رسائی کے ذرائع وسیع ہورہے ہیں اور لوگوں کو ان خدمات کے بہتر استعمال کے قابل بنانے کے لیے بھی اقدامات جاری ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی شمولیت کو صرف بینک اکاؤنٹ رکھنے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ملکی اقتصادی ترقی کا اہم حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

tayab

غربت کا بڑھتا ہوا مدار

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی معاشی نمو، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو مدنظر رکھیں تو پاکستان کی

ہاں، میں تماشائی ہوں

تحریر: ایم اے تبسم زندگی کی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے میں نے بہت سے تماشے دیکھے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ وقت نے

تازہ ترین خبریں

tayab

غربت کا بڑھتا ہوا مدار

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی معاشی نمو، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو مدنظر رکھیں تو پاکستان کی

ہاں، میں تماشائی ہوں

تحریر: ایم اے تبسم زندگی کی پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے میں نے بہت سے تماشے دیکھے ہیں، اور سچ تو یہ ہے کہ وقت نے