پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کو فروغ دینے کی کوششوں کے تحت بلوچستان سب سے آگے نکل گیا ہے، جہاں 31 اضلاع میں 31 لاکھ 99 ہزار 393 زیتون کے پودے 24 ہزار 620 ایکڑ رقبے پر لگائے گئے ہیں۔
2012 سے 2026 تک کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر تقریباً 76 لاکھ 40 ہزار زیتون کے پودے 60 ہزار 456 ایکڑ رقبے پر 131 اضلاع میں لگائے جاچکے ہیں۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق بلوچستان کے علاوہ پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، سندھ، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بھی زیتون کے باغات قائم کیے گئے ہیں۔
بلوچستان پہلے، پنجاب دوسرے نمبر پر
بلوچستان میں زیتون کے 31 لاکھ 99 ہزار 393 پودے 31 اضلاع میں 24 ہزار 620 ایکڑ رقبے پر موجود ہیں، جبکہ پنجاب 22 لاکھ 35 ہزار 962 پودوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں زیتون کی کاشت 31 اضلاع کے 17 ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی ہوئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں 16 لاکھ 56 ہزار 499 پودے 14 ہزار 690 ایکڑ رقبے پر 32 اضلاع میں لگائے گئے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر میں 2 لاکھ 5 ہزار 929 پودے، سندھ میں ایک لاکھ 29 ہزار 384، اسلام آباد میں ایک لاکھ 17 ہزار 958 جبکہ گلگت بلتستان میں 92 ہزار 296 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔
مختلف منصوبوں کے تحت زیتون کی کاشت
اعداد و شمار کے مطابق زیتون کی کاشت میں سب سے بڑا حصہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کا ہے، جس کے تحت 50 لاکھ 29 ہزار 10 پودے 37 ہزار 854 ایکڑ رقبے پر لگائے گئے۔
اس کے علاوہ اولیو ویلی منصوبے کے تحت 13 لاکھ 20 ہزار 116، 5 ملین اولیو پروگرام کے تحت 5 لاکھ 90 ہزار، PIDSA کے تحت 5 لاکھ 80 ہزار 158، اولیو ایکسپینشن کے تحت 80 ہزار 637 جبکہ نجی شعبے کے تحت 37 ہزار 500 پودے لگائے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق پاکستان میں تقریباً 40 لاکھ ہیکٹر رقبہ زیتون کی کاشت کیلئے موزوں ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ملک میں موجود لاکھوں جنگلی زیتون کے پودے بھی اس شعبے کو مزید وسعت دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
زیتون کے تیل کی تیاری کیلئے 51 یونٹس قائم
زیتون کی کاشت کے ساتھ ساتھ ملک میں اس کی پروسیسنگ کیلئے بھی سہولیات قائم کی گئی ہیں۔ پاکستان بھر میں زیتون کا تیل نکالنے کے 51 یونٹس نصب کیے جاچکے ہیں۔
بلوچستان میں سب سے زیادہ 23 آئل ایکسٹریکشن یونٹس قائم ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا میں 16 اور پنجاب میں 9 یونٹس موجود ہیں۔ اسلام آباد میں 2 جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں ایک یونٹ قائم ہے۔
اس شعبے کیلئے دیگر سہولیات میں 3 ویلیو ایڈیشن لیبارٹریاں، 6 فروٹ پروسیسنگ یونٹس، 5 موسمیاتی اسٹیشن، 5 نرسری ٹنلز اور 4 قومی حوالہ جاتی لیبارٹریاں شامل ہیں، جو اسلام آباد، چکوال، ترناب اور کوئٹہ میں قائم ہیں۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں زیتون کی کاشت کا منصوبہ صرف پودے لگانے تک محدود نہیں، بلکہ تیل نکالنے، پروسیسنگ، تحقیق، نرسریوں اور موسمیاتی نگرانی سمیت اس شعبے کیلئے مکمل بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔





