اتوار, اکتوبر ۲۵, ۲۰۲۶ – ۷:۳۰ شام
 

نمک کا زیادہ استعمال صرف بلڈ پریشر ہی نہیں، یادداشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

کھانے میں نمک کی زیادتی کو عموماً ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے، لیکن نئی تحقیق سے اشارہ ملا ہے کہ نمک کی مقدار میں عدم توازن یادداشت اور دماغی افعال کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ محققین کے مطابق نمک کا بہت زیادہ یا بہت کم استعمال دماغی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے، تاہم اس تعلق کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

نمک جسم کے لیے ضروری ہے، لیکن اس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہائی بلڈ پریشر، امراضِ قلب، فالج اور ہارٹ اٹیک سمیت کئی سنگین بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔ اب محققین اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ نمک کی مقدار یادداشت اور دماغ کے دیگر افعال پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے۔

جرنل فوڈ ریسرچ انٹرنیشنل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نمک کی مختلف مقداروں کے دماغی صحت پر اثرات جانچنے کے لیے چوہوں کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ ان گروپوں کو کم، زیادہ اور متوازن مقدار میں نمک والی خوراک دی گئی۔

تحقیق کے نتائج کے مطابق کم اور زیادہ، دونوں مقداروں میں نمک استعمال کرنے والے چوہوں میں یادداشت سے متعلق مسائل دیکھے گئے۔ محققین نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ نمک کی مقدار میں عدم توازن معدے اور دماغ کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے۔

تجربے کے دوران چوہوں کے دماغ کے ان حصوں میں بعض اہم پروٹینز کی سطح بھی کم پائی گئی جو یادیں بنانے اور محفوظ رکھنے کے عمل میں کردار ادا کرتے ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ خوراک میں نمک کی مقدار متوازن رکھی جائے۔ تاہم، چوہوں پر ہونے والے تجربات کے نتائج کو براہِ راست انسانوں پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔

زیادہ نمک کے استعمال اور یادداشت کے درمیان تعلق کے حوالے سے انسانی تحقیق بھی سامنے آئی ہے۔ اپریل 2026 میں آسٹریلیا کی ایڈتھ کوون یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں 1,208 افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا تاکہ نمک کے استعمال اور دماغی صحت کے درمیان تعلق کو سمجھا جاسکے۔

اس تحقیق میں زیادہ نمک کے استعمال اور ایسی یادوں میں تنزلی کے درمیان تعلق سامنے آیا جو ذاتی تجربات اور ماضی کے مخصوص واقعات سے وابستہ ہوتی ہیں۔ ان میں اسکول میں پہلے دن یا کسی دوست سے پہلی ملاقات جیسے واقعات کی یادیں شامل ہیں۔

تحقیق میں یہ تعلق مردوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، جبکہ خواتین میں ایسا تعلق مشاہدے میں نہیں آیا۔ تاہم، محققین کے مطابق اس فرق کی وجوہات جاننے اور نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق درکار ہے۔

ماہرین کے مطابق زیادہ نمک کا استعمال ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا سکتا ہے، جبکہ بلند فشارِ خون بھی دماغی صحت کو متاثر کرنے والے عوامل میں شامل ہے۔ اس لیے نمک اور یادداشت کے درمیان تعلق کو سمجھتے وقت دیگر ممکنہ عوامل کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

الٹرا پراسیس یا انتہائی پراسیس شدہ غذاؤں میں نمک کی مقدار اکثر زیادہ ہوسکتی ہے، اس لیے ایسی غذاؤں کا مسلسل استعمال محدود رکھنا مفید ہے۔ روزمرہ خوراک میں نمک کی مقدار پر توجہ دینا اور متوازن غذا اختیار کرنا مجموعی صحت کے لیے اہم ہے۔

مجموعی طور پر دستیاب تحقیق نمک کے استعمال میں اعتدال کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔ تاہم، یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ نمک کی کسی خاص مقدار سے انسانی یادداشت لازماً متاثر ہوتی ہے۔ دماغی صحت پر نمک کے اثرات اور اس تعلق کی وجوہات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید انسانی مطالعات کی ضرورت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں