بدھ, اکتوبر ۱۴, ۲۰۲۶ – ۱۲:۴۶ صبح
 

معروف اینکر اقرار الحسن کی مبینہ گرفتاری، اہلیہ نے مریم نواز سے مدد مانگ لی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

لاہور: معروف ٹی وی اینکر اقرار الحسن کو لاہور کے علاقے ڈی ایچ اے فیز 8 میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ان کی اہلیہ فرح اقرار نے دعویٰ کیا ہے کہ اہلکار رات گئے گھر میں داخل ہوئے، دروازے توڑے اور اہلِ خانہ کے موبائل فونز سمیت دیگر الیکٹرانک آلات اپنے ساتھ لے گئے۔

فرح اقرار کے مطابق گھر کے تمام افراد سو رہے تھے کہ اسی دوران نامعلوم افراد مرکزی گیٹ اور دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اہلکار کمروں تک پہنچے اور موبائل فونز اور آئی پیڈ ساتھ لے گئے، جبکہ ان سے بھی موبائل فون چھین لیا گیا۔

فرح اقرار نے بتایا کہ کارروائی میں خواتین اہلکار بھی موجود تھیں، جن کے بیجز پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) درج تھا۔

ان کے مطابق گھر میں نصب ڈیجیٹل ویڈیو ریکارڈر (ڈی وی آر) اور سکیورٹی سسٹم کو بھی نقصان پہنچایا گیا، جس کے باعث واقعے کی ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ رہنے کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

اقرار الحسن کی پہلی اہلیہ قرۃ العین نے بھی دعویٰ کیا کہ رات تقریباً 2 بجے 5 سے 7 مرد اور 2 خواتین زبردستی گھر میں داخل ہوئے اور ان کے شوہر کو اپنے ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق اہلکار 2 گاڑیوں میں آئے تھے۔

قرۃ العین کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ اے سکیورٹی موقع پر موجود تھی، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کرنے کے باوجود پولیس تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد پہنچی۔

ان کے مطابق جب وہ تھانے گئیں تو پولیس نے وائی فائی نہ چلنے کا جواز پیش کرتے ہوئے رپورٹ درج کرنے سے انکار کر دیا۔ قرۃ العین نے کہا کہ اقرار الحسن گزشتہ 20 سال سے بااثر افراد کو بے نقاب کرتے آ رہے ہیں اور اس واقعے کے دوران ان کا کم عمر بیٹا بھی گھر میں موجود تھا۔

قرۃ العین نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے معاملے کا فوری نوٹس لینے اور متعلقہ انتظامیہ کو اقرار الحسن کی بازیابی کے لیے اقدامات کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی معروف صحافی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آ سکتا ہے تو عام شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے بھی سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

اقرار الحسن کی گرفتاری کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد صارفین نے مبینہ کارروائی کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پوچھ گچھ کے لیے طلب کرنا مقصود تھا تو باقاعدہ نوٹس دے کر بھی بلایا جا سکتا تھا۔

تاحال متعلقہ حکام کا مؤقف اور گرفتاری کی وجوہات سامنے نہیں آئیں۔ واقعے کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق اور سرکاری وضاحت کا انتظار ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

9 اکتوبر، ڈاک کا عالمی دن

تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور پاکستان پوسٹ نے 9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 152ویں سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا عالمی

تازہ ترین خبریں

9 اکتوبر، ڈاک کا عالمی دن

تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور پاکستان پوسٹ نے 9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 152ویں سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا عالمی