ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۹:۱۲ صبح
 

مصنوعی ذہانت کا خطرہ، اقوام متحدہ میں اہم اجلاس، سیم آلٹمین بھی شریک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

واشنگٹن: اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سیم آلٹ مین آئندہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سلامتی کونسل کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق خطرات پر بریفنگ دیں گے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب حکومتیں اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ رہنما مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور اس کی ترقی کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے طریقوں پر بحث کر رہے ہیں۔

یہ اجلاس فرانس کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے، جو اس وقت 15 رکنی سلامتی کونسل کی گردشی صدارت سنبھالے ہوئے ہے۔ اجلاس میں جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کی تیز رفتار ترقی سے پیدا ہونے والے خدشات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

مصنوعی ذہانت کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت

سیم آلٹ مین کی بریفنگ ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مصنوعی ذہانت کی نگرانی اور نظم و نسق کے لیے بین الاقوامی تعاون کے مطالبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رواں ہفتے کہا کہ مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صرف قومی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کافی نہیں ہوں گے اور اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر رابطہ اور تعاون ضروری ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا، ’’قومی سطح پر اقدامات ضروری ہیں، لیکن عالمی سطح پر رابطہ کاری بھی ناگزیر ہے۔‘‘

یہ بحث مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار اور زیادہ صلاحیت رکھنے والے نظاموں کے ممکنہ نتائج کے حوالے سے محققین اور ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ کارکنوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کے بعد سامنے آئی ہے۔

ٹیکنالوجی رہنماؤں میں ترقی کی رفتار پر بحث

مصنوعی ذہانت کی صنعت سے وابستہ کئی اہم شخصیات نے حالیہ عرصے میں زیادہ محتاط رویے پر زور دیا ہے۔

این تھروپک کے سی ای او ڈاریو اموڈی نے اے آئی ماڈلز کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھرتے ہوئے خطرات کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔

اوپن اے آئی کے سیم آلٹ مین، ایلون مسک اور گوگل ڈیپ مائنڈ کے سربراہ ڈیمس ہسابس بھی اے آئی کے حوالے سے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات کی حمایت کر چکے ہیں۔ ڈیمس ہسابس اس سے قبل جدید مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے بین الاقوامی نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دے چکے ہیں۔

یہ بحث اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب بعض اے آئی محققین نے خدشات ظاہر کیے کہ انتہائی صلاحیت رکھنے والے مصنوعی ذہانت کے نظام غیر متوقع انداز میں رویہ اختیار کر سکتے ہیں۔

ضابطہ کاری پر اختلاف

جہاں بعض ٹیکنالوجی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ مصنوعی ذہانت کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات ضروری ہیں، وہیں بعض دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ کاری ٹیکنالوجی کی جدت کو محدود کر سکتی ہے اور عالمی مسابقت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت سے متعلق بعض خطرات کے انتباہات کو مسترد کیا ہے اور اس صنعت پر مزید سخت پابندیوں کے مطالبات کی مخالفت کی ہے۔

سیم آلٹ مین کی آئندہ سلامتی کونسل میں شرکت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا کے بااثر ترین مصنوعی ذہانت کے ماہرین اور ٹیکنالوجی رہنماؤں میں سے ایک عالمی سطح پر اس بحث کا حصہ بننے جا رہے ہیں کہ ممالک ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی اور اس سے وابستہ حفاظتی خدشات کے درمیان توازن کیسے قائم کر سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں