غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ تقریباً ایک ہفتے کے دوران شمالی کوریا کی جانب سے بیلسٹک میزائل تجربات کا دوسرا سلسلہ ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے مطابق اتوار کی سہ پہر بحیرۂ جاپان کی جانب ایک کم فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل (SRBM) فائر کرنے کے تقریباً تین گھنٹے بعد شمالی کوریا نے ایک اور شارٹ رینج بیلسٹک میزائل داغ دیا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ انہوں نے سہ پہر تقریباً 3 بجے وونسان کے علاقے سے پہلے میزائل کے تجرباتی فائر کا سراغ لگایا، جس کی شناخت بیلسٹک میزائل کے طور پر کی گئی۔ جاپان کی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی کہ یہ بظاہر بیلسٹک میزائل ہی تھا۔
جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق میزائل جاپان کے خصوصی اقتصادی زون سے باہر سمندر میں گرا۔
جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق پہلے میزائل نے تقریباً 450 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا اور امکان ہے کہ اس کا تعلق ’ہواسونگ-11‘ میزائل سیریز سے ہو۔
جنوبی کوریا کی قومی سلامتی کونسل نے کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تجربے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شمالی کوریا پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر میزائل سرگرمیاں بند کرے۔
قومی سلامتی کونسل نے خبردار کیا کہ شمالی کوریا کا یہ میزائل تجربہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔





