سوڈان کے جنوبی علاقے میں سونے کی ایک کان منہدم ہونے کے نتیجے میں کم از کم ۸۲ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں جبکہ متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ خدشہ ہے کہ وہ ریت اور ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
مقامی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے بدھ کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ مغربی کردفان ریاست میں کان منہدم ہونے کے بعد منگل کی رات بھر امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ کان حادثے میں زندہ بچ جانے والے دو افراد نے اے ایف پی کو بتایا کہ امدادی کارکنوں نے صبح ہونے تک ۶۰ لاشیں نکال لی تھیں۔
مقامی عہدیدار کے مطابق بدھ کے روز مزید ۲۲ لاشیں بھی نکالی گئیں۔ یہ عہدیدار نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز سے وابستہ ہے جو مغربی کردفان پر کنٹرول رکھتی ہیں اور ۲۰۲۳ سے سوڈانی فوج کے ساتھ جنگ میں مصروف ہیں۔
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ۵۰ افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ یہ معلوم نہیں کہ ملبے تلے مزید کتنے افراد پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں گروپ کی جانب سے بات کرنے کی اجازت حاصل نہیں تھی۔
سوڈان میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے دونوں فریقوں کو ملک کی سونے کی تجارت سے بڑے پیمانے پر مالی وسائل حاصل ہوتے رہے ہیں۔ سوڈان میں سونے کی تجارت کا حجم اربوں ڈالر میں ہے۔
ملک میں روزگار کے مواقع محدود ہونے کے باعث بہت سے نوجوان سوڈانی خطرناک طریقے سے سونا تلاش کرنے کے کام سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر غیر منظم کانوں میں کام کرتے ہیں۔ مغربی کردفان میں واقع الزراع کان بھی انہی کانوں میں شامل ہے۔
کان حادثے میں زندہ بچ جانے والے ایک کان کن خیر السید جبرا نے رات بھر اپنے ساتھی کان کنوں کے ساتھ امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے بعد اے ایف پی کو بتایا کہ سب لوگ لاشوں یا زندہ بچ جانے والے افراد کو نکالنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں لیکن یہ کام بہت مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ چٹانوں اور مٹی کو ہٹانے کے لیے بھاری مشینری کی ضرورت ہے۔
سوڈان میں زیادہ تر سونا روایتی اور چھوٹے پیمانے پر کان کنی کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔ یہ کام بند ہوچکی کانوں یا الزراع جیسی غیر رسمی جگہوں پر کیا جاتا ہے۔
کان کن معمولی اور سادہ اوزاروں کی مدد سے ہاتھ سے کام کرتے ہیں اور اس کے بدلے انہیں روزانہ بہت کم اجرت ملتی ہے۔ مٹی سے سونے کے ذرات نکالتے وقت انہیں خطرناک کیمیائی مواد کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے جن میں سائانائیڈ بھی شامل ہے۔ یہ کیمیکل قریبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔
یورپی یونین نے جولائی میں سوڈان کو پارہ اور سائانائیڈ فروخت کرنے اور منتقل کرنے پر پابندی عائد کردی تھی۔ یورپی یونین کے مطابق یہ فیصلہ سونے کی استحصالی تجارت میں ان کیمیکلز کے استعمال کے باعث کیا گیا۔
زندہ بچ جانے کی امید کم
سوڈان بھر میں کانوں کے منہدم ہونے کے واقعات عام ہیں۔ فوج کے زیر کنٹرول ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں یہ واقعات اکثر بند ہوچکی کانوں کی سرنگوں میں پیش آتے ہیں جہاں نوجوان روزانہ کی اجرت کمانے کی کوشش میں چھپ کر داخل ہوتے ہیں۔
جنوب میں وسائل سے مالا مال گریٹر کردفان کے علاقے میں بھی متعدد غیر سرکاری کانیں موجود ہیں۔ یہ کانیں دراصل زمین میں موجود بڑی اور غیر محفوظ گہری کھائیاں ہیں جہاں روزانہ درجنوں نوجوان کام کرتے ہیں۔
ایک اور کان کن الامین سلیمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ منگل کے روز الزراع کان کے کنارے پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کان کی سرنگیں ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں۔ اگر ایک سرنگ منہدم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ والی سرنگیں بھی منہدم ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ گزشتہ روز سے زیر زمین پھنسے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ زندہ ہوں گے۔
جنگ شروع ہونے سے پہلے بھی روایتی اور چھوٹے پیمانے کی کان کنی سوڈان میں ۲۰ لاکھ سے زیادہ افراد کے روزگار کا ذریعہ تھی۔ صنعتی اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے بعد ملک کے تقریباً ۲ کروڑ افراد شدید بھوک کا شکار ہوئے ہیں۔
افریقہ کا تیسرا بڑا ملک سوڈان براعظم افریقہ میں سونے کے بڑے پیدا کنندگان میں شامل ہے۔ سوڈان کے مطابق گزشتہ سال ملک میں سونے کی پیداوار ۷۰ ٹن رہی جو پانچ سال کی بلند ترین سطح تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ سوڈان کا زیادہ تر سونا ملک کی سرحدوں سے اسمگل کیا جاتا ہے۔ یہ سونا چاڈ اور جنوبی سوڈان اور مصر کے راستے متحدہ عرب امارات پہنچتا ہے۔ متحدہ عرب امارات دنیا کا دوسرا بڑا سونا برآمد کرنے والا ملک ہے۔
جولائی میں یورپی یونین اور برطانیہ نے سوڈان کی سونے کی تجارت کو ہدف بناتے ہوئے پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔
برطانیہ نے کہا تھا کہ اس نے دبئی اور ہانگ کانگ میں سرگرم غیر قانونی سونے اور مالیاتی نیٹ ورکس کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ نیٹ ورکس سوڈان میں جاری جنگ کے دونوں فریقوں کے لیے ہتھیاروں کی خریداری اور فوجی کارروائیوں سمیت مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ بھی متعدد مرتبہ خبردار کرچکا ہے کہ جنگ میں شامل دونوں فریق ملک کے وسائل پر کنٹرول کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنگی معیشت سوڈان میں جاری تنازع کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔





