جمعرات, اکتوبر ۲۲, ۲۰۲۶ – ۳:۱۶ صبح
 

آلودہ ہوا میں ورزش کرنا بھی صحت کے لیے کیوں مفید ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

باقاعدگی سے ورزش کرنے کے صحت کے فوائد عموماً فضائی آلودگی سے لاحق خطرات سے زیادہ ہوتے ہیں، تاہم شہروں میں ورزش کرنے والے افراد کم ٹریفک والے راستوں کا انتخاب کرکے اور شدید فضائی آلودگی کے اوقات سے گریز کرکے آلودگی سے اپنی نمائش کم کرسکتے ہیں۔

فضائی آلودگی کو دل کے امراض، سانس کی بیماریوں، کینسر اور قبل از وقت موت سمیت متعدد صحت کے مسائل سے جوڑا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق دنیا کی 99 فیصد آبادی آلودہ ہوا میں سانس لیتی ہے۔

فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کے خطرات

فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات، جنہیں PM2.5 کہا جاتا ہے، صحت کے لیے اہم تشویش کا باعث ہیں۔ یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچنے کے ساتھ ساتھ خون میں بھی شامل ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جسم کے مختلف اعضا متاثر ہوسکتے ہیں۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ PM2.5 اور دیگر آلودہ ذرات، بالخصوص نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ، سے طویل عرصے تک متاثر ہونے سے ڈیمینشیا کے خطرے میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ پھیپھڑوں میں سوزش پیدا کرنے کے علاوہ ان کی نشوونما اور کارکردگی کو بھی متاثر کرسکتی ہے۔

ورزش کے دوران آلودگی سے متاثر ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے، کیونکہ دوڑنے اور سائیکل چلانے جیسی سرگرمیوں کے دوران انسان زیادہ تیزی اور گہرائی سے سانس لیتا ہے۔ مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ زیادہ شدت سے ورزش کرنے والے افراد، پیدل چلنے والوں کے مقابلے میں ایک ہی فاصلے کے دوران آلودہ ذرات کی زیادہ مقدار اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں۔

تاہم، ضروری نہیں کہ گاڑی کے اندر بیٹھنا آلودگی سے زیادہ تحفظ فراہم کرے۔ ماہرین کی جانب سے پیش کی گئی تحقیق کے مطابق بعض اوقات سائیکل چلانے والوں کو گاڑی میں سفر کرنے والے افراد کے مقابلے میں آلودگی کا کم سامنا ہوتا ہے، کیونکہ سائیکل سوار ٹریفک میں کھڑی گاڑیوں کے درمیان بیٹھنے کے بجائے ہوا میں حرکت کرتے رہتے ہیں۔

ورزش کے فوائد

مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی سرگرمی کے مجموعی صحت کے فوائد آلودہ ہوا سے وابستہ خطرات سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

2016 میں کیے گئے ایک ماڈلنگ مطالعے سے معلوم ہوا کہ پیدل چلنے اور سائیکل چلانے سے حاصل ہونے والے صحت کے فوائد عموماً فضائی آلودگی کے مضر اثرات سے زیادہ ہوتے ہیں۔ محققین کے مطابق صرف انتہائی بلند سطح کی فضائی آلودگی میں طویل دورانیے کی ورزش کے خطرات اس کے فوائد کے قریب پہنچتے یا ان سے بڑھتے ہیں۔

ایک حالیہ جائزے میں بھی معلوم ہوا کہ آلودہ ماحول میں ورزش کرنے والے افراد میں جسمانی طور پر غیر فعال افراد کے مقابلے میں موت کے خطرے میں 26 فیصد کمی دیکھی گئی۔ صاف ہوا میں ورزش کرنے والوں میں یہ کمی مزید بڑھ کر 31 فیصد رہی۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ورزش پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بنانے، بلڈ پریشر کم کرنے اور فضائی آلودگی کے دماغی صحت پر بعض منفی اثرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

تاہم، فضائی آلودگی ورزش کے بعض فوائد کو کم کرسکتی ہے۔ صحت مند افراد اور دائمی پھیپھڑوں یا دل کے امراض میں مبتلا افراد پر کیے گئے ایک مطالعے میں معلوم ہوا کہ نسبتاً صاف ماحول میں پیدل چلنے والے افراد کے پھیپھڑوں اور خون کی شریانوں کی کارکردگی میں ان افراد کے مقابلے میں زیادہ بہتری آئی جو شدید آلودگی والی سڑکوں پر پیدل چلے تھے۔

آلودگی سے بچاؤ کے طریقے

ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ جہاں ممکن ہو، پارکوں، کم ٹریفک والی سڑکوں اور بھاری ٹریفک سے دور راستوں کا انتخاب کیا جائے۔ مصروف سڑک سے صرف ایک یا دو گلیاں دور جانے سے بھی فضائی آلودگی سے متاثر ہونے میں 20 سے 30 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جبکہ اندرونی یا متبادل گلیوں کا استعمال آلودگی سے مزید تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

رش کے اوقات میں ٹریفک سے گریز بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے، کیونکہ سڑکوں پر کھڑی گاڑیاں بعض مقامات پر آلودگی کی سطح میں نمایاں اضافہ کرسکتی ہیں۔ گرم اور دھوپ والے موسم میں زمین کے قریب اوزون کی سطح بڑھنے کے اوقات سے گریز کرنا بھی بہتر ہوسکتا ہے۔

مقامی فضائی معیار کی رپورٹس یا ایئر کوالٹی انڈیکس کی نگرانی سے لوگوں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کسی مخصوص دن بیرونِ خانہ ورزش کرنا مناسب ہے یا نہیں۔ جن دنوں فضائی آلودگی کی سطح بہت زیادہ ہو، ان دنوں گھر کے اندر یا نسبتاً صاف ماحول میں ورزش کرنا زیادہ مناسب ہوسکتا ہے۔

جن افراد کو پہلے سے سانس یا دل اور خون کی شریانوں سے متعلق بیماریاں لاحق ہیں، انہیں ورزش کے دوران فضائی آلودگی سے بچاؤ کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں