پیرس: فرانس میں کئی روز سے جاری پرتشدد مظاہروں اور لوٹ مار کے بعد حکومت نے دارالحکومت پیرس کے متعدد علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ اور مظاہروں پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد شہر میں امن و امان بحال کرنا ہے۔
پیرس پولیس پرفیکچر کے مطابق کرفیو پیر کی رات 11 بجے سے منگل کی صبح 6 بجے تک کئی محلوں میں نافذ رہے گا، جبکہ بعض علاقوں میں پیر کی شام 8 بجے سے منگل کی صبح 6 بجے تک مظاہروں کی اجازت نہیں ہوگی۔
اس سے قبل وزیراعظم سیبسٹین لیکورنو نے دو روز تک جاری رہنے والے شدید احتجاج اور بدامنی کے بعد بعض شہروں میں جزوی کرفیو نافذ کرنے کی ہدایت دی تھی۔
فرانس کے وزیر داخلہ لارنٹ نونیز نے اعتراف کیا ہے کہ کئی شہروں میں پولیس حالات پر قابو پانے میں ناکام رہی۔ انہوں نے فرانس انٹر ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی حیثیت سے وہ میدان میں پیش آنے والے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے لیے پیشگی تیاری بھی ناکافی تھی۔
نونیز نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے تشدد اور لوٹ مار کے بعد تنقید کے تناظر میں اپنا استعفیٰ پیش کیا تھا، تاہم صدر ایمانوئل میکرون نے اسے مسترد کردیا۔ ایلیسی پیلس کے مطابق صدر نے موجودہ بحران کے دوران سیکیورٹی فورسز کی کمان میں تسلسل برقرار رکھنے کے لیے وزیر داخلہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
میکرون نے تشدد کی شدت میں اضافے کا سبب بننے والی پیشگی تیاری اور انٹیلی جنس سے متعلق ناکامیوں پر مزید شفافیت کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بدامنی کے دوران قانون نافذ کرنے والے تقریباً ایک ہزار اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ لگ بھگ 2 ہزار 400 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت کے اقدامات پر پیرس، مارسیلز اور لیموژ سمیت مختلف شہروں کے میئرز اور مقامی رہنماؤں نے تنقید کی ہے۔
وزیر داخلہ نونیز مارسیلز کا دورہ کرنے والے ہیں، جو تشدد سے متاثر ہونے والے اہم شہروں میں شامل ہے۔ اطلاعات کے مطابق اتوار کو وہاں لوٹ مار میں ملوث افراد کی تعداد 30 ہزار تک بتائی گئی، تاہم اس تعداد کی مزید تصدیق فراہم نہیں کی گئی۔
دوسری جانب یلو ویسٹ تحریک نے ہفتے کے روز نئے مظاہروں کی اپیل کی ہے، جس سے حکومت کو بدامنی کی ایک نئی لہر کا خدشہ درپیش ہے۔
لوور میوزیم کے سامنے طلبہ کا محاصرہ
پیرس میں طلبہ نے پیر کے روز معروف لوور میوزیم تک رسائی روک دی۔ مظاہرین کا مقصد ہائی اسکولوں میں جاری احتجاج سے یکجہتی کا اظہار اور پولیس کے مبینہ جبر کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔
میوزیم انتظامیہ اور یونینز کے مطابق احتجاج کے باعث لوور صبح 9 بجے معمول کے مطابق نہیں کھل سکا۔ ایکول ڈو لوور کے طلبہ نے اس کارروائی کی قیادت کی، جبکہ نیشنل اسکول آف فائن آرٹس کے طلبہ نے بھی اس میں حصہ لیا۔
میوزیم انتظامیہ کا کہنا تھا کہ احتجاج کا لوور میوزیم سے براہ راست کوئی تعلق نہیں، بلکہ اسے اپنی آواز بلند کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا گیا۔ سی جی ٹی یونین کے مطابق میوزیم کم از کم دوپہر تک بند رہنے کا امکان تھا۔
یہ احتجاج ستمبر کے وسط سے جاری ہائی اسکول تحریک کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل مہنگائی کے خلاف ملک گیر مظاہرے بھی ہوئے تھے، جن کے بعد کئی فرانسیسی شہروں میں بدامنی پھیل گئی تھی۔ تازہ واقعات نے فرانس میں امن و امان کی صورتحال اور حکومتی حکمت عملی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔





