منگل, اکتوبر ۱۳, ۲۰۲۶ – ۸:۱۳ شام
 

رات گئے کھانے کی عادت، جگر کے لیے خطرے کی گھنٹی؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

رات کو دیر تک جاگنے کے دوران کچھ کھانے کی خواہش بظاہر معمولی عادت لگتی ہے، لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ اس کا اثر آپ کے جگر کی صحت پر بھی پڑ سکتا ہے؟ ایک نئی طبی تحقیق میں رات گئے کھانے اور جگر کے امراض کے درمیان ممکنہ تعلق سامنے آیا ہے۔ محققین کے مطابق، رات کے وقت کھانے کی عادت رکھنے والے افراد میں جگر کی بیماریوں کا خطرہ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ ہوسکتا ہے۔

امریکا میں ہونے والی اس تحقیق میں اوریگن یونیورسٹی اور میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل کے محققین نے تقریباً 2 لاکھ افراد کے غذائی معمولات اور طرزِ زندگی سے متعلق معلومات کا تجزیہ کیا۔ یہ معلومات تین بڑی تحقیقی رپورٹس سے حاصل کی گئی تھیں، جن میں شرکا سے پوچھا گیا تھا کہ آیا وہ رات کا کھانا کھانے کے بعد یا سونے سے پہلے کچھ کھاتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ رات گئے کچھ کھانے کے عادی افراد میں جگر کے امراض کا خطرہ دوسرے افراد کے مقابلے میں 20 سے 30 فیصد زیادہ پایا گیا۔

محققین کے مطابق، کھانے کے اوقات جگر کی صحت پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، کیونکہ جگر جسم کی اندرونی حیاتیاتی گھڑی کے مطابق کام کرتا ہے۔ یہ گھڑی نیند، میٹابولزم اور جسم کے دیگر اہم افعال کو منظم کرتی ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا ہے کہ جگر غذائی عادات اور نیند کے اوقات میں تبدیلیوں کے حوالے سے حساس ہوسکتا ہے۔ تاہم، ان نتائج کو فی الحال حتمی نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ تحقیق میں شرکا کی جانب سے خود فراہم کی گئی معلومات پر انحصار کیا گیا تھا۔

محققین کے مطابق، رات گئے کھانے اور جگر پر چربی جمع ہونے کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سونے سے چند گھنٹے پہلے کھانے سے گریز کرنا میٹابولک صحت اور جگر کی کارکردگی بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے Clinical Gastroenterology and Hepatology میں شائع ہوئے۔

جگر پر چربی جمع ہونے کا مرض کیا ہے؟

جگر پر چربی جمع ہونے کا مرض دنیا بھر میں کروڑوں افراد کو متاثر کرتا ہے۔ اس کیفیت کو طویل عرصے تک نان الکحلک فیٹی لیور ڈیزیز (NAFLD) کہا جاتا رہا ہے، جو جگر کی بیماریوں کی عام اقسام میں شمار ہوتی ہے۔

اس بیماری میں جگر کے اندر ضرورت سے زیادہ چربی جمع ہونے لگتی ہے۔ اگر اس کیفیت کی تشخیص اور مناسب دیکھ بھال نہ ہو تو بعض افراد میں وقت کے ساتھ جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کے افعال متاثر ہوسکتے ہیں۔

جگر پر چربی جمع ہونے کا تعلق موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسے میٹابولک مسائل سے بھی ہے۔ اسی لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا اہم ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

9 اکتوبر، ڈاک کا عالمی دن

تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور پاکستان پوسٹ نے 9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 152ویں سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا عالمی

تازہ ترین خبریں

9 اکتوبر، ڈاک کا عالمی دن

تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور پاکستان پوسٹ نے 9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 152ویں سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا عالمی