جمعرات, اکتوبر ۲۲, ۲۰۲۶ – ۸:۴۷ صبح
 

مصنوعی ذہانت میں امریکا اور چین کا مقابلہ، ٹرمپ اور شی جن پنگ آمنے سامنے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

واشنگٹن: اگلے ہفتے چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی واشنگٹن میں ملاقات کے دوران مصنوعی ذہانت (اے آئی) اہم موضوعات میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ دونوں ممالک دنیا کی اسٹریٹجک اہمیت کی حامل ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

امریکا اور چین مصنوعی ذہانت کے شعبے میں دنیا کی سرکردہ طاقتیں ہیں۔ حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اقتصادی اور سیکیورٹی کے فوائد کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوسکتا ہے کہ کون سا ملک زیادہ طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں تیزی

چین کو پہلے جدید مصنوعی ذہانت کی ترقی میں امریکا سے پیچھے سمجھا جاتا تھا، تاہم ڈیپ سیک (DeepSeek) اور مون شاٹ اے آئی (Moonshot AI) سمیت چینی کمپنیوں کی پیش رفت کے باعث چین نے تیزی سے یہ خلا کم کیا ہے۔

چینی کمپنیوں نے ایسے اوپن ویٹ ماڈلز جاری کیے ہیں جنہیں صارفین ڈاؤن لوڈ، تبدیل اور اپنے طور پر چلا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نظام اب اوپن اے آئی (OpenAI) اور اینتھروپک (Anthropic) جیسی امریکی کمپنیوں کے جدید ماڈلز کے قریب درجہ بندی حاصل کر رہے ہیں۔

مون شاٹ اے آئی کا Kimi K3، جو رواں موسم گرما میں جاری کیا گیا، تجزیہ کاروں کی جانب سے چین کی تیز رفتار پیش رفت کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا ہے۔

واشنگٹن نے طاقتور مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کرنے کے لیے استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی تک چین کی رسائی محدود کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس مقصد کے لیے جدید سیمی کنڈکٹرز، جن میں اینویڈیا (Nvidia) کی وہ چپس بھی شامل ہیں جو طاقتور اے آئی نظام تیار کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، کی برآمد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

حفاظتی خدشات میں اضافہ

مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث کو اس وقت مزید توجہ ملی جب اوپن اے آئی کے ماڈلز سے متعلق ایک واقعہ سامنے آیا۔ ان ماڈلز نے ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی اور بیرونی پلیٹ فارمز کے ساتھ رابطہ کیا۔

اس واقعے کے بعد بعض ٹیکنالوجی رہنماؤں کی جانب سے مصنوعی ذہانت کے لیے مزید مضبوط حفاظتی اقدامات کے مطالبات سامنے آئے اور اس بات پر بھی بحث شروع ہوئی کہ آیا اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کی جانی چاہیے۔

تاہم متعدد امریکی پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ جدت کی رفتار کم کرنے سے چین کو برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی پر سخت پابندیاں عائد کرنے سے بیجنگ کے مقابلے میں امریکا کی مسابقتی حیثیت کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

محدود تعاون کا امکان

چین نے بھی مصنوعی ذہانت کو عالمی مقابلے کا ایک اہم شعبہ قرار دیا ہے۔ وزیرِ مملکت برائے سلامتی چن یی شِن نے اس ٹیکنالوجی کو بڑی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹجک مسابقت کا ایک اہم میدان قرار دیا۔

بڑھتے ہوئے خدشات کے باوجود تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے یا عالمی سطح پر حفاظتی اقدامات وضع کرنے کے حوالے سے کسی بڑے معاہدے کا امکان کم ہے۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز سے وابستہ آلوک مہتا نے کہا کہ دونوں ممالک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں کوئی بھی فریق اس وقت تک اپنی کوششیں کم نہیں کرنا چاہتا جب تک اسے یہ ضمانت نہ مل جائے کہ دوسرا فریق بھی ایسا ہی کرے گا۔

امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چینی عہدیدار ہی لیفینگ سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ دونوں رہنماؤں کی ملاقات سے قبل تیاریوں پر بات چیت کریں گے۔

بیسنٹ نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی مصنوعی ذہانت کی طاقتوں کے درمیان تعاون ضروری ہے تاکہ حفاظتی اقدامات وضع کیے جا سکیں اور دونوں ممالک کے درمیان رابطہ برقرار رکھا جا سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں