منگل, اکتوبر ۱۳, ۲۰۲۶ – ۸:۱۵ شام
 

بیٹ مین ماسک اور اچانک احتجاج، دہلی میں نوجوانوں کا نیا انداز

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

بھارت کے دارالحکومت میں سخت سکیورٹی اور نگرانی کے باوجود نوجوان مظاہرین احتجاج جاری رکھنے کے لیے نئے طریقے اپنا رہے ہیں۔ کہیں بیٹ مین کے ماسک پہن کر شناخت چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے تو کہیں رضاکاروں کے نیٹ ورک گرفتار مظاہرین کو تلاش کرنے اور انہیں گھر پہنچانے میں مدد دے رہے ہیں۔

خبر رساں رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کے اہم علاقوں، خصوصاً جنتر منتر کے مرکزی احتجاجی مقام کے اطراف ہزاروں سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔ اس سخت انتظام کے باعث مظاہرین نے غیر متوقع مقامات پر مختصر احتجاج شروع کرنے کی حکمتِ عملی اپنائی ہے، جس سے حکام کو فوری طور پر مختلف مقامات پر پہنچنا پڑتا ہے۔

مظاہروں میں بھارت کے الیکشن کمیشن کے سربراہ سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں ردوبدل کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔ ہفتے اور اتوار کو ہونے والے مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں سے کئی کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

مظاہرین کی مدد کے لیے 36 سالہ مواد تخلیق کار میگھناد ایس نے تقریباً 170 رضاکاروں پر مشتمل ایک نیٹ ورک بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہ رضاکار اسمارٹ فونز اور آن لائن رابطوں کے ذریعے پولیس کی گاڑیوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھتے اور حراست میں لیے گئے افراد کے مقامات کا پتا لگانے میں مدد کرتے ہیں۔

کسی زیرِ حراست شخص کا مقام معلوم ہونے کے بعد رضاکار ڈیجیٹل ڈیش بورڈ اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے اسے ایسے ڈرائیوروں سے رابطہ کرواتے ہیں جو گھر واپسی کے لیے سواری، کھانا اور پانی فراہم کرتے ہیں۔ بعض مواقع پر رہائی پانے والوں کے ساتھ جانے کے لیے ڈاکٹروں کی مدد بھی حاصل کی جاتی ہے۔ یوں یہ نیٹ ورک حراست کے بعد گھر پہنچنے کی کوشش کرنے والے مظاہرین کے لیے ایک غیر رسمی امدادی نظام بن گیا ہے۔

شناخت چھپانے کے لیے بھی مظاہرین مختلف طریقے اپنا رہے ہیں۔ طالب علم رہنما نیہا بورا اس وقت سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنیں جب پولیس نے ان سے مشابہت رکھنے والی ایک خاتون کو حراست میں لے لیا۔ بعد میں بورا نے اپنی ہم شکل خاتون کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں کی مشابہت محض اتفاق ہے، کوئی طے شدہ حکمتِ عملی نہیں۔

دوسری جانب بعض مظاہرین نے شناخت چھپانے کے لیے بیٹ مین کے ماسک پہن رکھے ہیں، جبکہ بالی وڈ اداکارہ رچا چڈھا نے بھی مظاہرین کو مشورہ دیا کہ وہ چہرے کی شناخت کرنے والی نگرانی کی ٹیکنالوجی کو ناکام بنانے کے لیے میک اَپ کے استعمال پر غور کریں۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں بعض مظاہرین کو پولیس کی جانب سے حراست میں لینے کی کوشش کے دوران ایک دوسرے کے بازوؤں میں بازو ڈالے کھڑے دیکھا گیا، جبکہ کچھ افراد پولیس کی منتظر بسوں تک پہنچنے سے پہلے ہی نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

دہلی میں جاری یہ مظاہرے سکیورٹی اداروں اور نوجوان کارکنوں کے درمیان مسلسل آزمائش بن گئے ہیں۔ ایک جانب حکام اجتماعات کو محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری جانب نوجوان سوشل میڈیا، فوری رابطہ کاری اور غیر روایتی طریقوں کے ذریعے اپنی تحریک کو جاری اور نمایاں رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

9 اکتوبر، ڈاک کا عالمی دن

تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور پاکستان پوسٹ نے 9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 152ویں سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا عالمی

تازہ ترین خبریں

9 اکتوبر، ڈاک کا عالمی دن

تحریر: ضیاء الحق سرحدی (ستارہ امتیاز) پشاور پاکستان پوسٹ نے 9 اکتوبر کو یونیورسل پوسٹل یونین کی 152ویں سالگرہ کے موقع پر ڈاک کا عالمی