جمعرات, اکتوبر ۲۲, ۲۰۲۶ – ۱۲:۳۴ صبح
 

بھارت میں احتجاجی کارروائیاں زیرِ سوال، اقوام متحدہ کا غیر جانب دارانہ تحقیقات پر زور

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

نئی دہلی: اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ کے احتجاج کے خلاف حکومتی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیر ضروری استعمال فوری طور پر روکا جائے اور پیش آنے والے واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

الجزیرہ اور رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کے 24 آزاد ماہرین نے اپنے بیان میں کہا کہ احتجاج کے دوران متعدد مظاہرین زخمی ہوئے، جبکہ بعض افراد نے بدسلوکی کی شکایات بھی کیں۔ ماہرین نے مظاہروں اور گرفتاریوں کے دوران جنسی تشدد اور صنفی بنیادوں پر بدسلوکی کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔

ماہرین کے مطابق پُرامن اجتماعات کے باوجود پولیس نے غیر مسلح طلبہ کے خلاف لاٹھی چارج سمیت طاقت کا استعمال کیا، جبکہ ہزاروں افراد کو احتجاج میں شرکت سے روکے جانے کی اطلاعات ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا غیر ضروری استعمال بند کیا جائے، اجتماعات پر عائد عمومی پابندیاں ختم کی جائیں اور بائیومیٹرک معلومات کے ذریعے ڈیجیٹل نگرانی کے غلط استعمال سے گریز کیا جائے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کی بندش سے بھی اجتناب کرنے کا مطالبہ کیا۔

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی، دیگر اپوزیشن جماعتوں اور طلبہ تنظیموں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ نام خارج کیے جانے سے غریبوں، بے گھر افراد اور مسلمانوں سمیت نسلی و مذہبی اقلیتوں کو غیر متناسب نقصان پہنچا ہے۔

تاہم حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر فہرستوں سے دوہرے اندراج، وفات پا جانے والے افراد، نقل مکانی کرنے والوں اور دیگر نااہل ووٹروں کے نام نکالے جا رہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ جن افراد کے نام غلطی سے خارج ہوئے ہیں، وہ اپیل کرسکتے ہیں۔

بھارتی حکومت ماضی میں بھی اقوام متحدہ کی جانب سے اس نوعیت کی تنقید کو اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیتی رہی ہے۔ تازہ بیان کے بعد مظاہرین کے حقوق، پولیس کارروائیوں اور ووٹر فہرستوں میں تبدیلیوں سے متعلق تنازع ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں