ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۹:۱۹ صبح
 

بچوں کو جنگ سے دور رکھنے کے لیے حوثیوں کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ، سعودی عرب

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

سعودی عرب کی نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس نے یمن میں حوثیوں کی جانب سے بچوں کو بھرتی کرنے اور ان کا استحصال روکنے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ان سرگرمیوں سے بچوں کی زندگی، سلامتی اور مستقبل خطرے میں پڑ رہا ہے، جبکہ انہیں تعلیم اور محفوظ ماحول سے محروم کرکے جنگی کارروائیوں میں بھی دھکیلا جا رہا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق انسانی حقوق کے ادارے نے متعلقہ بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان میں حوثیوں کی جانب سے بچوں کی بھرتی اور انہیں استعمال کرنے کے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹس میں بچوں کو فوجی نوعیت کے مواد اور سرگرمیوں سے متاثر کیے جانے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

ادارے نے واضح کیا کہ بچوں کی بھرتی اور استحصال کا جاری رہنا ان کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور مسلح تنازعات میں بچوں کو بھرتی ہونے اور استحصال سے بچانے کے لیے بنائے گئے بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔

صرف مذمت نہیں، عملی اقدامات ضروری ہیں

نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس کے مطابق بچوں کی بھرتی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے خلاف ورزیوں کی مذمت اور دستاویز بندی کافی نہیں، بلکہ ٹھوس اقدامات کرنا ضروری ہیں۔ ان میں بھرتی کیے گئے بچوں کی رہائی، دوبارہ بھرتی کی روک تھام اور ذمہ دار افراد کا احتساب شامل ہے۔

ادارے نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا کہ بچوں کی بھرتی اور استحصال کے تسلسل کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس نے متعلقہ بین الاقوامی طریقۂ کار اور نظام کو فعال بنانے پر زور دیا تاکہ ان خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب ہو اور وہ ایسی سرگرمیاں جاری رکھنے کے قابل نہ رہیں۔

بچوں کو جنگ سے بچانے اور بحالی پر زور

انسانی حقوق کے ادارے نے خبردار کیا کہ بچوں کو تنازعات میں شامل کرنے سے تشدد اور انتہا پسندی کو فروغ ملتا ہے، لڑائی طویل ہوتی ہے اور امن و استحکام کے امکانات کمزور پڑتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کی کوششیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔

ادارے نے زور دیا کہ بچوں کی بھرتی اور استحصال روکنے کے ساتھ متاثرہ بچوں کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے لیے مؤثر پروگرام بھی شروع کیے جائیں۔ ان بچوں کو ان کے خاندانوں اور اسکولوں میں واپس لانے کے علاوہ ضروری نفسیاتی اور سماجی مدد فراہم کی جائے تاکہ وہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں اور اپنے مستقبل کو دوبارہ سنوار سکیں۔

نیشنل سوسائٹی فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ بچوں کا تحفظ مزید مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔ اب توجہ خلاف ورزیوں کی نگرانی سے آگے بڑھ کر انہیں روکنے اور محض مذمت کے بجائے ذمہ داروں کے احتساب پر مرکوز ہونی چاہیے۔

ادارے نے واضح کیا کہ بچے کا اصل مقام اس کے خاندان، اسکول اور معاشرے میں ہے، میدانِ جنگ میں نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

تازہ ترین خبریں