بنگلہ دیش میں کئی دہائیوں کے دوران خسرے کی بدترین وبا کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد بچے جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہنگامی ویکسینیشن مہم کے ذریعے 19.8 ملین سے زائد بچوں تک رسائی حاصل کی جا چکی ہے۔
حکومت اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اب بھی روزانہ تقریباً ایک ہزار نئے مشتبہ خسرہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جو بنگلہ دیش میں صحت کے بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔
یونیسیف کے مطابق بنگلہ دیشی حکومت 26 ستمبر سے ویکسینیشن مہم کے ایک شدید اور وسیع تر مرحلے میں داخل ہونے کا منصوبہ رکھتی ہے، جس میں ان بچوں کو ہدف بنایا جائے گا جنہیں ابھی تک خسرے سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگائی گئی۔
یہ وبا بنگلہ دیش کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، کیونکہ ملک خسرے کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت کر چکا تھا۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق رواں سال مارچ تک بنگلہ دیش خسرے کے خاتمے کی جانب نمایاں پیش رفت کر رہا تھا۔ تاہم اب عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ رواں سال اب تک بنگلہ دیش میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں خسرے کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں وبا میں تیزی آنے کے بعد سے اب تک ایک لاکھ 94 ہزار سے زائد مشتبہ اور تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ خسرہ انتہائی متعدی بیماری ہے اور متاثرہ شخص کے سانس لینے، کھانسنے یا چھینکنے کے دوران خارج ہونے والے جراثیمی ذرات کے ذریعے پھیلتا ہے۔
رپورٹ میں شامل تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق صرف منگل کے روز مزید آٹھ افراد مشتبہ خسرے کے باعث جاں بحق ہوئے۔
متعدد عوامل
خسرے کی وبا میں مارچ کے دوران تیزی آئی۔ یونیسیف نے صورتحال کو متعدد عوامل کے ایک ساتھ جمع ہونے کا نتیجہ قرار دیا، جن میں گنجان آباد علاقے اور کورونا وبا کے دوران بچوں کی معمول کی ویکسینیشن میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں شامل ہیں۔
تقریباً 17 کروڑ 80 لاکھ آبادی والے بنگلہ دیش کو کئی برسوں سے سیاسی عدم استحکام کا بھی سامنا رہا ہے۔ 2024 میں طلبہ کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ اقتدار سے الگ ہوئیں، جس کے بعد محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت قائم ہوئی۔
یونیسیف نے اس سے قبل الزام عائد کیا تھا کہ عبوری حکومت نے نئے سپلائرز پر غور کے دوران گزشتہ سال ویکسینز کے آرڈر میں تاخیر کی، جس کے نتیجے میں ویکسین کی قلت پیدا ہوئی۔
یونیسیف کے ترجمان میگوئل میٹوس مونوز نے جون میں بی بی سی کو بتایا، ہمیں خدشہ تھا کہ ویکسین کی ممکنہ کمی بڑھ سکتی ہے اور اب صورتحال اسی سمت بڑھ رہی ہے جس کا ہم آج مشاہدہ کر رہے ہیں۔
تاہم یونس انتظامیہ کے دور میں وزارتِ صحت کے ایک سابق سینئر عہدیدار نے ملک میں ویکسین کی قلت کے دعوے کی تردید کی۔
ویکسینیشن مہم
عوامی صحت کے ماہرین نے ابتدائی ہنگامی ویکسینیشن مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ مہم کافی تعداد میں بچوں تک نہیں پہنچ سکی اور نہ ہی اس میں جغرافیائی طور پر مناسب وسعت تھی۔
عوامی صحت کے ماہر ڈاکٹر مشتاق حسین کے مطابق مہم کے نتیجے میں بہت سے بچے ویکسین سے محروم رہ گئے اور اسے مزید علاقوں اور عمر کے زیادہ گروپس تک پھیلایا جانا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا، ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ حکومت نے کارروائی کا فیصلہ کیا، تاہم صحت کے کارکنوں کو گھر گھر جا کر مزید وسیع پیمانے پر آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت تھی تاکہ لوگوں کو ویکسینیشن کی فوری ضرورت سے آگاہ کیا جا سکے۔
عالمی ادارۂ صحت نے ویکسینیشن مہم کا دفاع کرتے ہوئے اسے کامیاب قرار دیا، تاہم اس بات کو تسلیم کیا کہ کچھ ہدف بنائے گئے بچوں تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
عالمی ادارۂ صحت نے ایک بیان میں کہا، ویکسینیشن کی سرگرمیاں شروع ہونے سے پہلے وبا ملک بھر میں پھیل چکی تھی، جس کے نتیجے میں وائرس کی منتقلی کا ایک وسیع سلسلہ قائم ہو گیا، جسے مکمل طور پر روکنے میں وقت لگتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر بچے
خسرے کے زیادہ تر کیسز ایسے بچوں میں سامنے آ رہے ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق تصدیق شدہ خسرہ کیسز میں تقریباً 83 فیصد ایسے بچوں کے ہیں جنہیں ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ چھ ماہ سے کم عمر بچے تقریباً 10 فیصد کیسز کا حصہ ہیں اور وہ خاص طور پر خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ عام طور پر وہ خسرے کی معمول کی ویکسینیشن مکمل کرنے کے لیے بہت کم عمر ہوتے ہیں۔
غذائی قلت بھی شدید بیماری اور موت کے خطرے میں اضافہ کر رہی ہے، کیونکہ غذائی کمی کا شکار بچے خسرے کی پیچیدگیوں کا زیادہ آسانی سے شکار ہو سکتے ہیں۔
وبا کی شدت نے بنگلہ دیش کے پہلے ہی دباؤ کا شکار صحت کے نظام پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔
ہسپتال مریضوں سے بھر گئے ہیں اور اطلاعات کے مطابق بعض خاندانوں کو انتظار کرنا پڑ رہا ہے یا انہیں انتہائی رش والے حالات میں علاج کروانا پڑ رہا ہے۔
بی بی سی کے مطابق جون میں اس کے نمائندوں نے جب ہسپتالوں کا دورہ کیا تو درجنوں خاندانوں کو فرش پر کمبل بچھا کر لیٹے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ ایک ہسپتال نے بتایا کہ وہ اپنی معمول کی گنجائش سے دگنی سے بھی زیادہ تعداد میں مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔
اس وقت وزیرِ صحت نے صحت کے نظام پر دباؤ کا اعتراف کیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت اس چیلنج سے نمٹ چکی ہے کیونکہ رپورٹ ہونے والے کیسز میں کمی نظر آ رہی تھی۔ تاہم اس کے بعد سے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مزید تقریباً 300 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔
دنیا بھر میں خسرے کی دوبارہ واپسی
بنگلہ دیش واحد ملک نہیں جہاں رواں سال خسرے کے کیسز میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے، تاہم وہاں وبا کی شدت خاص طور پر زیادہ ہے۔
برطانیہ، جس کے بارے میں پہلے سمجھا جاتا تھا کہ وہاں خسرے کا خاتمہ ہو چکا ہے، رواں سال بیماری کی منتقلی میں اضافے کے بعد یہ حیثیت کھو بیٹھا۔ امریکا میں بھی گزشتہ چند برسوں کے دوران خسرے کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عوامی صحت کے ادارے عام طور پر سمجھتے ہیں کہ خسرے کے خلاف اجتماعی مدافعت برقرار رکھنے اور بیماری کی مسلسل منتقلی روکنے کے لیے کم از کم 95 فیصد ویکسینیشن کوریج ضروری ہے۔ برطانیہ اور امریکا دونوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں ویکسینیشن کی شرح اس حد سے کم ہے۔
بنگلہ دیش کی صورتحال اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ جہاں بچوں کی معمول کی ویکسینیشن کا نظام متاثر ہو یا بڑی تعداد میں بچے ویکسین سے محروم رہیں، وہاں معاشرے میں خسرے جیسی بیماریوں کے دوبارہ پھیلنے کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔





