ہفتہ, اکتوبر ۱۷, ۲۰۲۶ – ۵:۱۴ شام
 

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی اہم ملاقاتیں، علاقائی امور پر بات چیت متوقع

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اپنے تین روزہ سرکاری دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی و عالمی صورتحال اور پاکستان و اقوام متحدہ کے درمیان تعاون پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔

انتونیو گوتریس نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کے دورے پر ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق قائم مقام سیکریٹری خارجہ سفیر نبیل منیر نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا استقبال کیا۔

دورے کے دوران انتونیو گوتریس کی صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقاتیں شیڈول ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ ان انڈیا اینڈ پاکستان (UNMOGIP) کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی کریں گے، جبکہ وہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) میں بریفنگ میں بھی شرکت کریں گے۔

علاقائی اور عالمی صورتحال پر گفتگو

دورے کے دوران پاکستانی اور اقوام متحدہ کی قیادت کے درمیان علاقائی و عالمی صورتحال اور باہمی تعاون کے مختلف امور پر خیالات کا تبادلہ ہوگا۔

پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی نظام کو مضبوط بنانے، عالمی امن و سلامتی کے فروغ اور اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیے جانے کا امکان ہے۔

این ڈی ایم اے کے دورے کے دوران پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور قبل از وقت وارننگ کے نظام میں ہونے والی پیش رفت بھی زیرِ بحث آئے گی۔

وزارت خارجہ کے مطابق انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان کی جانب سے کثیرالجہتی نظام اور اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی مسلسل حمایت کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں سے اپنی وابستگی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
Pocket
WhatsApp

متعلقہ خبریں

tayab

غربت کا بڑھتا ہوا مدار

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی معاشی نمو، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو مدنظر رکھیں تو پاکستان کی

تازہ ترین خبریں

tayab

غربت کا بڑھتا ہوا مدار

تحریر: ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی معاشی نمو، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید کے درمیان گہری ہوتی خلیج کو مدنظر رکھیں تو پاکستان کی