تحریر: سید عنایت اللہ جان
ہر سال 16 ستمبر کو دنیا بھر میں ”عالمی یوم شناخت“ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد یہ حقیقت اجاگر کرنا ہے کہ شناخت محض ایک کاغذی دستاویز نہیں بلکہ ہر انسان کی بنیادی ضرورت، وقار اور سماجی حیثیت کی علامت ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایک منظم اور شفاف نظامِ شناخت ہی کے ذریعے معاشرے کے ہر فرد کو یکساں حقوق، سرکاری سہولیات اور قومی فیصلوں میں نمائندگی حاصل ہو سکتی ہے، اور یہی شناخت ایک فرد کو ریاست کی نظر میں ایک مکمل اور فعال شہری بناتی ہے۔
شناخت کی اہمیت صرف سرکاری دستاویزات تک محدود نہیں۔ یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے جو کہ شہریوں پر معاشی، سماجی اور سیاسی زندگی میں شرکت کا دروازہ کھولتا ہے۔ شناخت کے بغیر آپ نہ بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں، نہ پاسپورٹ بنوا سکتے ہیں، نہ تعلیمی ادارے میں داخلہ لے سکتے ہیں، نہ سرکاری نوکری کو اپلائی کر سکتے ہیں، اور نہ ہی انتخابات میں ووٹ ڈال سکتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں مکمل شمولیت کا پہلا قدم یہی ہے کہ آپ “موجود” ہوں، اور آپ کی موجودگی کا تسلیم شدہ ثبوت آپ کی شناخت ہے۔
پاکستان میں شناخت کے نظام کا مرکزی ادارہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ہے۔ جس کا قیام 2000 کو ایک آرڈیننس کے تحت عمل میں آیا تھا۔ اس کا جاری کردہ کمپیوٹرائزڈ نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ (CNIC) شہریت، قومیت اور قانونی حیثیت کا سرکاری ثبوت ہے۔ یہ کارڈ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے تمام پاکستانی شہریوں کو جاری کیا جاتا ہے، چاہے وہ ملک میں رہتے ہوں یا بیرون ملک۔
آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔ 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی آبادی تقریباً 25 کروڑ 93 لاکھ ہے۔ اس بڑی آبادی کو مؤثر طریقے سے رجسٹر کرنا نادرا کا سب سے بڑا چیلنج اور ذمہ داری ہے۔ ہر شہری کی رجسٹریشن نہ صرف انفرادی حقوق کا تحفظ ہے بلکہ قومی منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد بھی ہے۔
پاکستان میں رجسٹریشن کا عمل بچپن سے شروع ہوتا ہے۔ بچے کی پیدائش کے بعد یونین کونسل یا میونسپل کمیٹی سے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے، جسے نادرا کے نظام میں رجسٹر کرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد ”ب فارم“ یا چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے، جس کے لیے والدین کے شناختی کارڈ، بچے کا سرکاری برتھ سرٹیفکیٹ اور نکاح نامہ (اگر دستیاب ہو) درکار ہوتا ہے۔ یہ ب فارم آگے چل کر CNIC حاصل کرنے کی بنیاد بنتا ہے۔ ب فارم اب کارڈ کی صورت میں بھی دستیاب ہے جس کو جوینائل کارڈ کہا جاتا ہے۔
18 سال کی عمر مکمل ہونے پر شہری CNIC کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ نادرا کی ویب سائٹ کے مطابق اس کے لیے والدین یا خون کے رشتہ دار کا شناختی کارڈ نمبر، کمپیوٹرائزڈ برتھ سرٹیفکیٹ، اور بائیو میٹرک تصدیق (والدین یا کسی بھی خونی رشتہ دار کی) ضروری ہے۔ اگر کسی کے والدین یا رشتہ دار موجود نہ ہوں تو ”انڈر ٹیکنگ بی“ جمع کرانا ہوتی ہے جس میں کوئی ذمہ دار شہری اس کی پاکستانی شہریت کی تصدیق کرتا ہے۔
نادرا نے حالیہ برسوں میں شناخت کے عمل کو نہایت آسان بنایا ہے۔ اب عام طور پر دستاویزات کی فوٹو کاپیاں لے جانے کی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کے پاس یونین کونسل کے برتھ سرٹیفکیٹ کا CRMS نمبر موجود ہے تو نادرا کا نظام خودکار طور پر تصدیق کر سکتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل نظام نہ صرف وقت بچاتا ہے بلکہ دھوکہ دہی اور دستاویزی غلطیوں کے امکانات بھی کم کرتا ہے۔
شناخت سے جڑی سہولیات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ CNIC کے ذریعے آپ بینکنگ، انشورنس، موبائل سم، انٹرنیٹ کنیکشن، جائیداد کی خرید و فروخت، ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ، اور تمام سرکاری سبسڈیز یا امداد (بینظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ) حاصل کر سکتے ہیں۔ یہی کارڈ ووٹ ڈالنے، ٹیکس فائل کرنے اور تمام قانونی معاملات میں آپ کی شناخت کا ثبوت ہے۔ مختصراً، CNIC پاکستانی شہری کے طور پر زندگی کی بنیادی کلید ہے۔
لیکن شناخت کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی جڑی ہے یعنی اپنی شناخت کی حفاظت کرنا۔ آج کے دور میں شناخت کی چوری (Identity Theft) ایک سنگین مسئلہ ہے۔ کسی کے شناختی کارڈ نمبر، بائیو میٹرک ڈیٹا یا ذاتی معلومات کا غلط استعمال اس کے لیے مالی اور قانونی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اپنے CNIC کی کاپی صرف قابل اعتماد اداروں کو دیں اور اسے سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے گریز کریں۔
شناخت کی حفاظت کے لیے چند آسان اصول اپنائیں یعنی اپنے شناختی کارڈ کو ہمیشہ محفوظ جگہ رکھیں، اس کی کاپیاں بلا ضرورت نہ بنوائیں، پرانی دستاویزات کو تلف کریں، اور اپنے بینک اسٹیٹمنٹس کا باقاعدہ جائزہ لیں۔ اگر کبھی آپ کا کارڈ گم ہو جائے تو فوری طور پر نادرا کو اطلاع دیں اور نیا کارڈ حاصل کریں۔ یہ کام بھی اب بہت زیادہ آسان ہوگیا ہے، آپ کو کوئی دستاویز ساتھ لانے کی ضرورت نہیں بس نادرا سنٹر آئے یا نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ پر جائے اور ڈپلیکیٹ کے لیے اپلائی کریں۔ یاد رکھیں، آپ کی شناخت آپ کی ملکیت ہے، اسے کسی اور کے حوالے نہ کریں۔
اگر آپ کا شناختی کارڈ گم ہو جائے یا کسی وجہ سے ضائع ہو جائے تو نادرا اس کی دوبارہ اجرا (Reprint) کرتا ہے۔ اس کے لیے بس آپ کو اپنا کارڈ نمبر فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اس طرح اگر آپ کو نام، تاریخ پیدائش یا پتے میں تبدیلی درکار ہو تو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ درخواست دی جا سکتی ہے۔ دورانیے کے اعتبار سے نادرا مختلف ترجیحات میں سروس فراہم کرتا ہے یعنی نارمل (30 دن، فیس 750 روپے)، ارجنٹ (12 دن، فیس 1500 روپے) اور ایگزیکٹو (7 دن، فیس 2500 روپے) اپلائی کی سہولت موجود ہے۔
میں نے بے شمار مرتبہ دیکھا ہے کہ بعض لوگ شناختی دستاویزات کے حصول اور حفاظت میں غفلت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور یوں انہیں مختلف پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگ تب شناختی دستاویزات بنواتے ہیں جب انہیں کوئی اشد ضرورت پڑتی ہے۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی فوری ضرورت سے قبل، قومی سوچ اور ذاتی احساس کے سبب اپنے شناختی دستاویزات بنوائیں اور بوقت ضرورت کام میں لائیں نہ کہ یہاں کام پڑے اور وہاں آپ کو کارڈ یاد آ جائے۔
معزز ہم وطنوں! شناخت صرف ایک کارڈ نہیں، یہ ایک شہری کی ریاست کے ساتھ وابستگی کا ایک مضبوط رشتہ ہے۔ عالمی یوم شناخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر فرد کو اپنی پہچان کا حق ہے، اور یہ حق حاصل کرنے کے ساتھ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی ہمارے سپرد ہے۔ اپنی شناخت کو مضبوط بنائیں، اسے محفوظ رکھیں، اور اسے اپنی قومی تعمیر و ترقی کے عمل میں مثبت کردار ادا کرنے کا ذریعہ بنائیں۔





