سر درد ایک عام مسئلہ ہے، لیکن ہر بار سر میں درد ہونا مائیگرین کی علامت نہیں۔ عام سر درد اور مائیگرین دو مختلف کیفیات ہیں، جن کی علامات، دورانیے اور علاج میں فرق پایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق درد کی نوعیت اور اس کے ساتھ ظاہر ہونے والی علامات کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ درست تشخیص اور مناسب علاج ممکن ہو سکے۔
عام سر درد کیوں ہوتا ہے؟
عام سر درد کی ایک عام قسم کو طبی زبان میں ٹینشن ٹائپ ہیڈیک کہا جاتا ہے۔ یہ ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، طویل وقت تک موبائل یا لیپ ٹاپ کی اسکرین دیکھنے اور جسم میں پانی کی کمی سمیت مختلف وجوہات سے ہو سکتا ہے۔
اس قسم کے درد میں عموماً سر کے دونوں جانب دباؤ، کھنچاؤ یا بھاری پن محسوس ہوتا ہے، جیسے سر کے گرد پٹی باندھ دی گئی ہو۔ درد کی شدت عام طور پر ہلکی سے درمیانی ہوتی ہے اور زیادہ تر افراد اس کے باوجود اپنے روزمرہ کے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔
عام سر درد بعض اوقات آرام کرنے یا سونے سے بہتر ہو جاتا ہے۔ اس کی مدت چند منٹوں سے کئی گھنٹوں تک ہو سکتی ہے، تاہم دورانیہ اور شدت اس کی وجہ کے مطابق مختلف ہو سکتے ہیں۔
مائیگرین عام سر درد سے کیسے مختلف ہے؟
مائیگرین اعصابی نظام سے متعلق ایک کیفیت ہے، جس میں بار بار سر درد کے دورے پڑ سکتے ہیں۔ اس کا درد عموماً سر کے ایک جانب، پیشانی کے کنارے یا کنپٹی کے قریب دھڑکن کی طرح محسوس ہوتا ہے، تاہم بعض افراد میں سر کے دونوں جانب بھی درد ہو سکتا ہے۔
صرف سر کے ایک جانب درد ہونا مائیگرین کی تشخیص کے لیے کافی نہیں۔ اس کی ایک اہم علامت درد کی درمیانی سے شدید شدت ہے۔ چلنے پھرنے، جھکنے یا سیڑھیاں چڑھنے جیسی معمول کی جسمانی سرگرمیوں سے بھی درد بڑھ سکتا ہے۔
مائیگرین کے ساتھ متلی، قے، تیز روشنی سے تکلیف اور بلند آوازوں سے حساسیت بھی ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے بعض مریض اندھیرے اور خاموش کمرے میں لیٹ کر آرام کرنا پسند کرتے ہیں۔
دونوں اقسام کے سر درد کا دورانیہ کتنا ہوتا ہے؟
عام سر درد اکثر آرام یا نیند سے بہتر ہو سکتا ہے، لیکن اس کا دورانیہ ہر شخص اور درد کی وجہ کے مطابق مختلف ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، مائیگرین کا ایک دورہ، اگر مؤثر علاج نہ کیا جائے، تو عموماً 4 سے 72 گھنٹے یعنی تین دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ اس دوران درد کی شدت کبھی کم اور کبھی زیادہ ہو سکتی ہے، اس لیے ضروری نہیں کہ پورے دورے میں درد ایک جیسا رہے۔
پاکستان میں سر درد اور مائیگرین کی ممکنہ وجوہات
پاکستان میں شدید گرمی، جسم میں پانی کی کمی، نیند کے معمولات میں تبدیلی، چائے اور کیفین کا زیادہ استعمال اور موبائل یا لیپ ٹاپ کی اسکرین کے سامنے طویل وقت گزارنا سر درد کی شکایات میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔
طبی ماہرین کے مطابق طویل وقت تک بھوکا رہنا اور مسلسل ذہنی دباؤ بھی بعض افراد میں مائیگرین کے دورے کو متحرک کر سکتا ہے۔ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلیاں بھی مائیگرین کے دوروں سے تعلق رکھ سکتی ہیں۔
تاہم ان عوامل کا اثر ہر شخص پر یکساں نہیں ہوتا، اور پاکستان میں اس مسئلے کے پھیلاؤ کے بارے میں درست اعداد و شمار کے لیے قابلِ اعتماد قومی سطح کی تحقیق ضروری ہے۔
مائیگرین اور اورا کیا ہے؟
مائیگرین کے بعض مریضوں کو سر درد شروع ہونے سے پہلے مخصوص اعصابی علامات محسوس ہوتی ہیں، جنہیں اورا کہا جاتا ہے۔ ان میں آنکھوں کے سامنے روشنی کی چمک دکھائی دینا، ٹیڑھی میڑھی لکیریں نظر آنا، نظر کے کسی حصے کا دھندلا یا تاریک ہونا، ہاتھوں یا چہرے میں سوئیاں چبھنے جیسا احساس اور بولنے میں دشواری شامل ہو سکتی ہے۔
یہ علامات عموماً 5 سے 60 منٹ تک رہتی ہیں۔ ہر مائیگرین کے مریض کو اورا نہیں ہوتا، اس لیے ان علامات کی عدم موجودگی مائیگرین کو خارج نہیں کرتی۔
نظر میں تبدیلی یا بولنے میں دشواری کو خود سے مائیگرین قرار دینا درست نہیں۔ خصوصاً اگر یہ علامات پہلی بار ظاہر ہوں یا اچانک شروع ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
سر درد سے بچاؤ اور ڈاکٹر سے رجوع کرنے کا وقت
اگر سر درد بار بار ہو، معمول سے زیادہ شدید ہو یا روزمرہ زندگی اور کام متاثر کرنے لگے تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ہر بار خود سے درد کش دوا لینے کے بجائے درد کی اصل وجہ معلوم کرنا زیادہ اہم ہے۔ درد کش ادویات کا بار بار استعمال خود بھی سر درد کی شدت یا تکرار بڑھا سکتا ہے۔
سر درد سے بچاؤ کے لیے چند احتیاطی تدابیر مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
- مناسب اور باقاعدہ نیند لیں۔
- دن بھر مناسب مقدار میں پانی پئیں۔
- کھانے کے اوقات میں غیر ضروری تاخیر نہ کریں۔
- موبائل اور لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے وقفے لیں۔
- ذہنی دباؤ کم کرنے اور جسمانی سرگرمیوں کے لیے وقت نکالیں۔
- اگر مخصوص چیزوں سے سر درد بڑھتا ہو تو ان محرکات کو نوٹ کریں۔
اگر اچانک زندگی کا شدید ترین سر درد شروع ہو، جسم کے کسی حصے میں کمزوری ہو، بولنے میں دشواری پیش آئے، بخار کے ساتھ گردن اکڑ جائے یا بے ہوشی ہو تو اسے عام سر درد سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ ایسی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں۔
یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں۔ درست تشخیص اور علاج کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ ضروری ہے۔




