گھر کی ذمہ داریاں نبھاتے نبھاتے اکثر خواتین کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ دن کب شروع ہوا اور کب ختم ہوگیا۔ صبح سے رات تک بچوں کی دیکھ بھال، شوہر اور گھر کے دیگر افراد کی ضروریات، کھانا پکانے، صفائی، کپڑوں اور بے شمار دوسرے کاموں میں مصروف رہتے ہوئے وہ اپنی ذات کے لیے وقت نکالنا بھول جاتی ہیں۔ مسلسل مصروفیت کے اس معمول میں سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والی شخصیت خود عورت ہوتی ہے۔ حالانکہ ذہنی سکون، خوشی اور تازہ توانائی کے لیے اپنے لیے کچھ وقت نکالنا بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا گھر کی دیکھ بھال۔ روزمرہ کی مصروفیات میں سے چند لمحے اگر اپنی پسند، آرام اور ذاتی دلچسپیوں کے لیے مختص کر لیے جائیں تو زندگی میں ایک خوبصورت توازن پیدا کیا جاسکتا ہے۔
زندگی میں توازن ضروری ہے
خواتین کی گھریلو ذمہ داریاں اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان ذمہ داریوں کے ساتھ اپنی ذات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ مسلسل دوسروں کے لیے سوچتے رہنے سے انسان اپنی ضروریات اور خواہشات سے دور ہوجاتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ روزانہ یا ہفتے میں کچھ وقت ایسے کاموں کے لیے ضرور رکھا جائے جو آپ کو خوشی دیتے ہوں۔
اپنی ضروریات، مصروفیات اور حدود کے بارے میں گھر والوں سے بات کریں اور جہاں ممکن ہو کام آپس میں تقسیم کریں۔ ہر ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھانے کی ضرورت نہیں۔ گھر کے افراد تعاون کریں تو نہ صرف کام کا بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ گھر کا ماحول بھی زیادہ پُرسکون رہتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ ہر کام کو بہترین انداز میں مکمل کرنا ضروری نہیں؛ بعض اوقات خود کو مطمئن اور پُرسکون رکھنا زیادہ اہم ہوتا ہے۔
منصوبہ بندی سے آسانی
دن بھر کے کام اگر پہلے سے ترتیب دے لیے جائیں تو وقت کی بچت ہوسکتی ہے۔ ہفتے کے کھانوں کا مینو پہلے سے طے کرنا اور ضروری اشیا بروقت خرید لینا روزانہ کی الجھن کم کرسکتا ہے۔ اسی طرح اہم کاموں کی فہرست بنا کر انہیں ترجیح کے مطابق مکمل کرنے سے دن زیادہ منظم گزرتا ہے۔
صفائی کا بوجھ کم کریں
گھر کی صفائی میں بہت سا وقت اور توانائی صرف ہوجاتی ہے۔ ہر کام ایک ہی دن میں مکمل کرنے کے بجائے صفائی کا باقاعدہ شیڈول بنائیں۔ طے کریں کہ کس دن کون سے کمرے یا جگہ کی صفائی کرنی ہے۔ روزانہ تھوڑا کام کرنے سے گھر بھی صاف رہتا ہے اور ایک ہی وقت میں بہت زیادہ محنت بھی نہیں کرنا پڑتی۔
ضرورت پڑنے پر گھر کے دوسرے افراد سے مدد لینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔ گھر سب کا ہے تو اس کی ذمہ داری بھی مل کر نبھائی جاسکتی ہے۔
کپڑوں کے کام میں ترتیب
کپڑے دھونا اور پھر انہیں خشک کرنا، تہہ کرنا اور استری کرنا خاصا وقت لے سکتا ہے۔ کپڑوں کا بہت بڑا ڈھیر جمع ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے انہیں معمول کے مطابق دھوتی رہیں۔ کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے سے جسمانی تھکن بھی کم محسوس ہوگی اور وقت کا بہتر استعمال بھی ممکن ہوگا۔
رات کو اگلے دن کی تیاری
رات کو سونے سے پہلے اگلے دن کی ضروری تیاری کرلیں۔ کچن صاف کر کے سونے سے صبح کا آغاز آسان ہوجاتا ہے۔ بچوں کے اسکول لنچ یا دیگر ضروری اشیا ممکن ہو تو رات ہی میں تیار کرلیں۔ چند منٹ کی پیشگی تیاری صبح کی بھاگ دوڑ اور ذہنی دباؤ کو کم کرسکتی ہے۔
صبح کے پُرسکون لمحے
جلدی سونے اور صبح نسبتاً جلدی بیدار ہونے کی عادت دن کو بہتر انداز میں شروع کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگر صبح کچھ اضافی وقت مل جائے تو اسے جلدی جلدی کام شروع کرنے کے بجائے اپنے لیے استعمال کریں۔ ایک کپ چائے یا کافی چند صفحات کا مطالعہ یا خاموشی میں بیٹھنے کے چند لمحے بھی ذہنی تازگی دے سکتے ہیں۔
اپنے لیے وقت کیسے نکالیں؟
گھر کے کام منظم کرنے کے بعد جو وقت بچے اسے صرف مزید کاموں میں صرف نہ کریں۔ اپنی پسندیدہ سرگرمی کے لیے بھی کچھ وقت ضرور رکھیں۔ کتاب یا رسالہ پڑھیں، موسیقی سنیں، کوئی پسندیدہ پروگرام دیکھیں، کھانا پکانے میں نئی ترکیب آزمائیں یا اپنی سہیلی سے ملاقات کریں۔
اپنی ظاہری اور ذہنی دیکھ بھال کو بھی معمول کا حصہ بنائیں۔ اسکن کیئر، آرام، ہلکی ورزش، سیر یا کوئی ایسا مشغلہ جس سے دل خوش ہو آپ کی روزمرہ زندگی میں تازگی پیدا کرسکتا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اپنے لیے وقت نکالنا خود غرضی نہیں، زندگی کو متوازن رکھنے کی ایک ضرورت ہے۔ جب عورت ذہنی طور پر پُرسکون اور اندر سے خوش ہوتی ہے تو وہ اپنی ذمہ داریاں بھی زیادہ توانائی اور بہتر انداز میں نبھا سکتی ہے۔ اس لیے زندگی کی مصروف دوڑ میں خود کو پیچھے نہ چھوڑیں اپنے لیے بھی چند لمحے ضرور بچائیں۔





